نئی دہلی‘ 19جولائی (یو این آئی) ٹرانس جنڈر افراد کی شناخت اور حقوق دلانے نیز ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے والوں کو سزا کا التزام سے متعلق بل آج لوک سبھا میں پیش کیا گیا۔سماجی انصاف کے وزیر تھاور چند گہلوت نے ٹرانس جنڈر افراد(حقوق کا تحفظ) بل 2019پیش کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے لوک سبھا میں 17 دسمبر 2018کو یہ بل لوک سبھا نے منظور کردیا تھا لیکن راجیہ سبھا میں منظور نہیں ہونے کی وجہ سے نئی لوک سبھا کی تشکیل کے بعد نئے سرے سے بل پیش کیا گیا ہے۔
بل کے مقاصد اور اسباب کے مطابق اس میں ٹرانس جنڈر افراد کے تئیں امتیازی سلوک روکنے کا نظم کیا گیا ہے۔ ٹرانس جنڈرا فراد کو ٹرانس جنڈر یا ان کے ذریعہ خود طے کسی جنس کے شخص کے طور پر شناخت کا حق حاصل ہوگا۔ انہیں ٹرانس جنڈر کے طور پر شناختی کارڈ جاری کرنے کا بھی التزام ہے۔بل میں کہا گیا ہے کہ ٹرانس جنڈر ہونے کی وجہ سے کسی شخص سے تعلیم‘ ملازمت‘ داخلہ‘ ترقی اور دیگر متعلقہ معاملات میں تفریق نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے ساتھ تفریق کرنے یا انہیں نقصان پہنچانے والوں کے لئے سزا کا التزام رکھا گیا ہے۔ انہیں بندھوا مزدوری کے لئے مجبور کرنے‘ عوامی مقامات پر جانے سے روکنے‘ گاوں یا گھر سے باہر نکالنے یا ان کی زندگی‘ سلامتی اور صحت کو نقصان پہنچانے والوں کو چھ ماہ سے دو سال کی قید کی سزا ہوسکتی ہے ساتھ ہی جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔
بل میں نیشنل ٹرانس جنڈر کونسل قائم کرنے اور ہر ادارہ میں ان کے لئے شکایتوں کے ازالہ کا میکانزم قائم کرنے کا بھی التزام ہے۔