ویکسین سے محروم بچے خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے کا انکشاف

پولیو ویکسین سے محروم بچے خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
دنیا کے متنازعہ، غریب ترین اور جنگ زدہ ممالک میں بچوں کی بڑی تعداد ویکسین سے محروم ہونے کہ وجہ سے خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیموں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں عام بیماریوں سے بچانے والی ویکسین کی شرح میں کمی آئی ہے کیونکہ 95 فیصد بچوں کو ویکسین دینے کا ہدف پورا نہیں ہوسکا ہے۔

پیر کے روز عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور یونیسیف کے اعدادو شمار پر جاری اپنی رپورٹ میں کہا کہ 2010 کے بعد خناق ، تشنج، کالی کھانسی اور خسرے کی ویکسین کی شرح 95 فیصد کے بجائے 86 فیصد کے لگ بھگ ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ دو کروڑ بچوں کو ویکسین نہیں دی گئی، یعنی دس میں سے ایک بچہ اس مرض کا شکار ہوسکتا ہے۔ 

ویکسین کانفیڈنس پروجیکٹ کی سربراہ ہیڈی لارسن نے کہا ہے۔ غریب اور ترقی یافتہ ممالک میں ویکسین کے خلاف سوشل میڈیا پر مہمات چلائی جارہی ہیں جن میں سیاسی مقاصد بھی شامل ہیں۔ اس طرح لوگوں کی اپنے بچوں کو ویکسین دینے کی جانب رغبت کم ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ یورپ میں بھی ویکسین سے انکار کرنے والے افراد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب یونیسیف نے کہا ہے کہ طبی سہولیات میں کمزور ممالک کے دور دراز دیہی علاقوں میں بچوں تک رسائی دوسرا گمبھیر مسئلہ ہے۔ عالمی تنازعات سے بچوں کی بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہوئی ہے اور انہیں ویکسین نہیں مل رہی ہے۔

عالمی ادارہ برائے صحت نے کہا ہے کہ 2018 میں خسرے کے واقعات میں دوگنا اضافہ ہوا ہے یعنی 350,000 کیسز رجسٹر ہوئے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک اور مشرقی اوقیانوسی عوام میں بھی خسرے کے واقعات بڑھے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں بھی افواہوں نے کام دکھایا ہے اور ویکسی نیشن کی شرح گرتی جارہی ہے۔

یونیسیف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہنریٹا فور نے کہا ہے کہ خسرہ چھوت کا مرض ہے جو تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس ضمن میں ڈیٹا غائب ہے کیونکہ رسائی مشکل ہے اور بچوں کی ویکسین تک رسائی ناممکن ہوچکی ہے۔

دوسری جانب برطانوی ویلکم فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں لوگوں کا ویکسین پر سے اعتبار کم ہوتا جارہا ہے اور یوں پانچ میں سے ایک فرد ویکسین کی افادیت کا قائل نہیں رہا۔

یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے. جس میں ادارہ نے کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سچ نیوز پاکستان – اصل لنک

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading