ویڈیو: خطبہ حج 2019 کے اہم نکات

  • نجات کا راستہ صرف اللہ کی رسی کو مضبوطی کیساتھ تھامنے میں ہے: خطبہ حج
  • ’اچھے اخلاق اور بہترین سلوک آج دنیا کی ضرورتیں ہیں
  • امت مسلمہ شفقت کا معاملہ رکھے اور نفرتیں ختم کرے
  • مسلمان اپنے آپ کو سیاسی طور پر مضبوط کریں

10/اگست 2019 (نیوز ایجنسیاں) مسلمانوں نے اہم ترین رکنِ اسلام ‘حج’ کے مناسک کا آغاز کردیا ہے جہاں مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے مفتی اعظم و امام کعبہ شیخ محمد بن حسن آل شیخ نے فرمایا ’اچھے اخلاق اور بہترین سلوک آج دنیا کی ضرورتیں ہیں‘۔

روح پرور خطبہ حج سننے کے لیے لاکھوں فرزندان توحید عرفات کے میدان میں جمع ہوئے۔امام کعبہ نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی جس کا مفہوم ہے کہ مسلمان اگر استطاعت رکھتا ہو وہ اپنی زندگی میں ایک مرتبہ حج ضرور کرے۔‘امام کعبہ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا ’ارکان اسلام میں توحید کی گواہی اور ختم نبوت کی گواہی ہے، نماز ہے، زکوٰۃ ہے جسے غریبوں، یتیموں اور فلاحی کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔مزید کہا ’بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، اللہ بہت ہی رحمت والا اور مغفرت کرنے والا ہے، وہی خدا ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا۔‘امام کعبہ نے خطبہ حج میں کہا ’اللہ کی بات کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔‘مفتی اعظم نے کہا ’اللہ نے انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا، اللہ کی توحید اور وحدانیت کو مضبوطی سے پکڑنا چاہیے۔‘امام کعبہ نے کہا ’قران پاک میں اللہ کی رحمتوں سے متعلق بار بار ارشاد ہے، نجات کا راستہ صرف اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے میں ہے۔‘مزید کہا ’اللہ نے جتنی بھی آسمانی کتابیں نازل کیں ان میں ضابطہ حیات بتایا، اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ آج کے دن ہم نے دین مکمل کردیا۔‘امام کعبہ نے کہا ’قرآن ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لائے، ان کے لئے نیکی کا سرچشمہ ثابت ہوگا۔‘ انہوں نے حاجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے حاجیوں! جتنا ممکن ہوسکے اللہ کو یاد کرو، دعائیں کرو، اللہ دعائیں قبول کرنے والا ہے۔امام مسجد نمر نے کہا کہ جو لوگ حق کی گواہی دیں گے اللہ انہیں جنت میں داخل کریں گے۔مزید کہا کہ ہمارے لئے اللہ ہی کافی ہے جو بہت زیادہ مہربان، بہت زیادہ رحیم اور معاف کرنے والا ہے۔انہوں نے کہا ’اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، اللہ کی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔‘امام کعبہ نے کہا کہ ’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی دنیا کے ہر شعبے کے لیے مشعل راہ ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام مسلمان ایک ہی جسم کی مانند ہیں‘۔اپنے خطاب میں کہا ’اللہ نے تمام ملسمانوں کو آپس میں بھائی بھائی بنایا ہے، اچھے اخلاق، بہترین سلوک آج دنیا کی ضرورتیں ہیں۔‘امام کعبہ نے مزید کہا ’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم زمین والوں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔‘انہوں نے حاجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کا راستہ اختیار کریں، والدین کےبعد رشتے داروں سے اچھا رویہ اختیار کریں۔‘مزید کہا ’اے مسلمانوں! اپنے نفوس کو پاک کرلو، بے شک اللہ تمام تر دعائیں سننے والا اور دلوں کا حال جاننے والا ہے‘۔امام کعبہ نے کہا ’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو مسلمان نیک اعمال کریں گے وہ جنت میں جائیں گے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ بہت سارے اسباب ہیں جس کے ذریعے اللہ کی رحمت کو اپنی جانب راغب کیا جاسکتا ہے۔مفتی اعظم نے خطبہ حج میں تاجر برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’تاجر طبقے کے لیے ہدایت ہے کہ وہ خرید و فروخت کریں تو ایمانداری سے کام لیں۔‘امام کعبہ نے کہا ’ہم پر مشکلات میں صبر کرنے سے بھی اللہ کی رحمت نازل ہوگی، بیشک اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے، کتنے بھی گناہ کیے ہوں پر توبہ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے کھلا ہے۔‘خطبے کے اختتام پر دعائیں

امت مسلمہ شفقت کا معاملہ رکھے اور نفرتیں ختم کرے: خطبہ حج

اسلام کے پانچویں فرض حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے عازمین سعودی عرب کے شہر مکہ میں موجود ہیں جہاں حج کے رکن اعظم وقوف عرفات کے موقع پر مسجد نمرہ کے امام الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ نے خطبہ حج دیا۔

مسجد نمرہ کے امام الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ نے خطبہ حج کے دوران کہا کہ امت مسلمہ کو چاہیے کہ ایک دوسرے سے شفقت کا معاملہ رکھے اور نفرتیں ختم کرے۔ انسان ہو یا جانور، سب کے ساتھ رحمت کا معاملہ کریں۔
امام الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ نے کہا کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا، تم زمین والوں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔ اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کا معاملہ اختیار کرو اور والدین کے بعد اپنے رشتے داروں سے اچھا رویہ اختیار کرو۔
اسلام دین رحمت ہے اور رحمت کا راستہ ہے، اللہ نے قرآن میں فرمایا جدا جدا راستے نہ اختیار کیے جائیں۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا جائے اور نجات کا راستہ صرف اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کی رحمت سے وہی مایوس ہوتا ہے جو گمراہ ہو چکا ہو۔ مسلمانوں کو تقویٰ کا راستہ اختیار کرتے ہوئے نماز قائم کرنی چاہیے۔
امام الشیخ محمد نے کہا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا، آج کے دن ہم نے دین مکمل کر دیا اور آج اپنی اس نعمت کو پورا کیا، اے عقل والو، اللہ کی اس کائنات اور اس کے نظام پر بار بار غور کرو۔

مسجد نمرہ کے امام الشیخ محمد حسن نے کہا کہ قرآن میں فرمایا گیا کہ اللہ اپنی رحمت سے جسے چاہتا ہے علم عطا فرماتا ہے۔ تمہارے پاس اللہ کی دلیل آچکی ہے۔ اللہ کی توحید اور وحدانیت کو مضبوطی سے پکڑنا چاہیے اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اسے دنیا اور آخرت کے خوف سے نجات دلاتا ہے۔
امام الشیخ محمد حسن نے حجاج کو تلقین کی کہ وہ دعاؤں میں مشغول رہیں اور سب کے لیے دعائیں کریں۔
مفتی اعظم نے خطبہ کے آخر میں مسلم امہ کو تلقین کی کہ تلاوت قرآن پاک کو اپنی عادت بنائیں، اللہ کی رحمت کی طرف توجہ کریں، آج کے دن اپنے اور اپنے رشتہ داروں کے لیے مغفرت کی دعا کریں۔انہوں اللہ کے حضور تمام امت مسلمہ کے اتحاد اور مسلمان مرحومین کے لیے دعائے مغفرت بھی فرمائی۔مفتی اعظم نے سعودی عرب میں حاجیوں کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں، بہترین انتظامات کرنے والے منتظیم اور دیگر اداروں کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے دعائے خیر کی۔انہوں نے خادم حرمین الشرفین سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے بھی دعائے خیر کی۔

’مسلمان اپنے آپ کو سیاسی طور پر مضبوط کریں‘ : خطبہ حج
امام الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ نے خطبہ حج کے دوران کہا کہ نجات کا راستہ صرف اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھامنے میں ہے
مکۃ المکرمہ۔۱۰؍اگست:سعودی عرب میں فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے آئے لاکھوں عازمین نے خطبہ حج سنا۔ مسجد نمرہ کے امام الشیخ محمد بن حسن نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا کہ تمام تعریفیں اللہ کےلئےہیں،گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، اللہ کی توحید اور وحدانیت کو مضبوطی سے پکڑنا چاہیے۔انہوں نے کہا ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو سیاسی طور پر مضبوط کریں، نجات کا راستہ صرف اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے میں ہے، قرآن میں فرمایا گیا اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا جائے اور جدا جدا راستے نہ اختیار کیے جائیں، نبی کریم ﷺ نے مسلم امہ کو ایک جسم کی مانند قرار دیا، مومن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں، ایک دوسرے کیلیے مغفرت کی دعا کریں، نماز قائم کریں اور برائی کو روکیں، اللہ نے انسانوں اور جنات کو اپنی عبادت کیلئے بنایا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے،اللہ نےقرآن میں فرمایاآج اپنی نعمت کوپوراکردیا،ہم نےدین مکمل کردیا۔ اسلام دین رحمت ہے اور رحمت کا راستہ ہے، انسان ہو یا جانور، سب سے رحمت کا معاملہ کریں، امت کو چاہیے ایک دوسرے سے شفقت کا معاملہ رکھے اور نفرتیں ختم کرے، رحم دلی سے آپس میں تعاون اور بھائی چارہ قائم کرو، انہوں نے کہاکہ رسول ﷺ نے فرمایا ہے کہ تم زمین والوں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم فرمائے گا، اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کا راستہ اختیار کریں، والدین کے بعد رشتے داروں سے اچھا رویہ اختیار کریں۔مسلمان نماز قائم کریں اور اللہ کے راستے پر مضبوطی سے چلیں، اہل ایمان کو تقویٰ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، اللہ نےانسانوں اور جنات کو اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا، مسلمان اپنے آپ کو سیاسی طور پر مضبوط کریں، اللہ کی توحید اور وحدانیت کو مضبوطی سے پکڑنا چاہیے، مخلوق کو پیدا کرنے کا مقصد ہے اللہ کی عبادت کی جائے، جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اسے دنیا و آخرت کے خوف سے نجات دلاتا ہے۔اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، کائنات پر غور سے اللہ کی وحدانیت پر پختہ ایمان پیدا ہوتا ہے، اے عقل والو اللہ کی کائنات اور اس نظام پر بار بار غور کرو، امت مسلمہ نفرتوں کو مٹادے، نیکی میں تعاون کرے، امت مسلمہ میں جس قدر محبت ہوگی اسی قدر امن ہوگا، جو اپنے نفس کا تزکیہ کرتا ہے اللہ اسے پاکی عطا کرتا ہے، یہ ایام تشریق ہیں، ان ایام میں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ امت مسلمہ میں اتحاد و یگانگت پیدا فرمادے۔کہ کوئی تکلیف پہنچےتوکہیں ’اناللہ واناالہ راجعون‘ اہل ایمان اللہ سے رحمت مانگیں فرشتے بھی اہل ایمان کے لیے رحمت کی دعاکرتے ہیں، اللہ کی رحمت کی طرف توجہ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہامومن ایک دوسرےکیلئےمغفرت کی دعاکرے اور اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اللہ کی رحمت کے دروازے کھلے ہیں ، حجاج کرام آپ لوگ وہاں موجود ہیں جہاں رحمتوں کا نزول ہورہا ہے، حجاج دعا میں مشغول رہیں سب کےلیے دعائیں کریں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading