خالق کائنات نے ہر ذی روح کے لیے موت اور فنا کا وقت کے ساتھ جگہ بھی متعین کر دیا ہے، اس وقت سے ایک پل نہ آگے اور نہ ہی ایک لمحہ پیچھے موت آتی ہے، ارشاد ربانی اور حکم خداوندی "كل نفس ذائقة الموت” جب زندگی ہے تو موت بھی ہے ناقابل انکار عمومی اور عینی نظام ہے، موت کا انکار دنیا میں بسنے والے تمام افراد کسی بھی مذہب و ملت اور مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں نہیں کرتا، بھلے ہی مابعد الموت والی خوشحال، عیش و عشرت،اور خوش آئند یا بدحال اور نامراد زندگی کے بارے میں کم ظرف لوگ تذبذب اور ڈگمگاہٹ کے شکار ہیں، کوئی بھی فرد اگر موت پر شک و شبہ، چھ پانچ میں مبتلا ہیں تو وہ اسفل السفہاء بلکہ بل هم أضل کی پہچان اور نمونہ ہے،
بہرحال! موت دنیاوی زندگی کا اختتام اور سرمدی، ہمیشگی اور ابدی زندگی کی ابتداء اور شروعات ہے،
تو موت جسم سے روح کو جدا اور علیحدہ کرنے والی، روح کو بدن سے الگ کر مابعد کی زندگی میں داخلہ دلانے والی، رندوں اور عیاشیوں کو ہلاک کرنے والی،بچوں کو یتیم کرنے والی، عورتوں کو بیوہ بنانے والی، امیدوں پر پانی پھیرنے والی، دنیاوی اور ظاہری سہاروں کو ختم کرنے والی، دلوں کو تھرانے والی، قلبوں میں دہشت اور ہلچل مچانے والی، دل کی فصیلوں پر کاری ضرب لگانے والی، دلی دنیا کی دہلیز پر دستک دینے والی، آنکھوں کو رلانے والی، بستیوں کو اجاڑنے والی، گلستان کو ریگستان میں بدلنے والی، چمنستان کو صحرا میں تحلیل کرنے والی، جماعتوں کا شیرازہ بکھیرنے والی، جذبات کو مجروح کرنے والی، دوستوں کو جدا کرنے والی، لذتوں کو سماپت کرنے والی، خیالی دنیا کو حقیقی دنیا میں پھیرنے والی، ظالموں کو دوزخ کی آہ و بکا والی وادیوں میں جھلسانے والی، جابروں کو جہنم رسید کرنے والی، تانا شاہ اور مردم آزاروں کو اس کی حیثیت سے واقف کرنے والی، عیش پرستوں کو اس کی اصلیت بتانے والی،
اور ہاں! متقیوں کو عدن کے بالا خانوں میں پہنچانے والی، اہل توحید کو بہشت میں اعلی مقام پر منتقل کرنے والی، اہل ایمان کو مبارکباد اور اچھا صلہ دینے والی، نیکوکار کو بہتر بدلہ دینے والی، اطاعت گزاروں اور فرمانرواوں کو جزائے خیر عطا کرنے والی، اور حق و باطل، خیر و شر، اور اچھائی اور برائی میں فرق کرنے والی شئی ہے،
کیوں کہ! موت نہ چھوٹوں کی طفولیت پر شفقت کرتی ہے اور نہ ہی بڑوں کی رجولیت اور بزرگی کی تعظیم، نہ نیک و صالح کا خیال ہے اور نہ ہی رندوں کا، موت کو نہ علماء کرام کے علم کا احترام ہے اور نہ ہی مشائخ کی شخصیت کا، موت کو نہ ماں کی ممتا کا اعتبار ہے اور نہ ہی بچوں کی بلبلا ہٹ کا، نہ دنیاوی چوہدریوں سے ڈرتی اور خوف کھاتی ہے اور نہ ہی بادشاہوں سے ان کے دربار میں حاضری کی اجازت لیتی ہے، بلکہ جب بھی حکم خداوندی ہوتا ہے تمام رکاوٹیں توڑ کر مطلوب کو حاصل کر لیتی ہے،
کیوں کہ موت نام ہے ہر ایک کو اس کے صحیح انجام تک پہنچانے والی، جسے آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں، زبان بیاں نہیں کر سکتی، کان سن نہیں سکتے اور احساسات بھی قاصر ہے،
غرض یہ کہ موت ہر ایک کو آتی ہے، نیک پر بھی، اور برے پر بھی، امیر پر بھی اور غریب پر بھی، مالدار پر بھی اور تنگدست پر بھی، عالم پر بھی اور جاہل پر بھی، مفتی پر بھی اور مستفتی پر بھی اور جس پر بھی آتی ہے نہ وہ خود بچ سکتا ہے اور نہ ہی اس کے احباب و اقربا اسے روک سکتے ہیں، اور یہ کیسے ممکن ہے جب ارشاد باری ہے "كل نفس ذائقة الموت” اگر جان کے لیے بقاء ہوتی تو ہمارے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم کو موت چھو بھی نہیں سکتی،.. اور یہ حقیقت ہے کہ :
*لو كان في الدنيا بقاء لمات خير المرسلين محمد *
تو ہم اور آپ کی کیا حیثیت ہے!
قارئین! بنی نوع انسان بلکہ تمام مخلوقات کا بقا تو نہیں ہے لیکن بعض کی وفات سے ایسا زخم لگتا ہے جو مندمل نہیں ہوتا، والدین کی وفات بچوں کی دنیا اجاڑ دیتی ہے، دوستوں کی موت دل میں اگھات لگاتی ہے، شوہر کا سانحہ عورت کو کشاکش، اجنبی اور بیگانہ کر دیتا ہے، بیوی کی روح پرواز بے-بس،بے حس اور زندگی موہوم کر جاتی ہے، بچے کا انتقال دنیا کو اضمحلال اور سبک رفتار کر دیتا ہے، یہ تو انفرادی اور محدود رنج و غم اور حزن و ملال ہے پر وارثین انبیاء کا دنیا سے کوچ کر جانا دنیا کو یتیم اور سوگوار کر جاتی ہے، لوگوں کو صدیوں کا غم پل بھر میں دے جاتی ہے، دل شکستہ، من بے قرار، دھڑکن منجمد، قلب رنجور اور جسمانی ساخت بےجان صنم میں تبدیل ہو جاتی ہے، اور کیسے نہ ہو یہی وہ وفادار اور وفا شعار دینی سپاہی اور اسلامی قلعوں کے پاسباں ہیں جنہیں شکست دے کر جہالت کے پرندے پر نہیں مار سکتے، یہی وہ چمکتا، دمکتا، پر نور اور روشن سورج ہیں جن سے دنیا کا چاند روشن اور شمع علم تابناک ہے، یہی وہ مجاہدین دین ہیں جو علم علم کو جھکنے نہیں دیتے، یہی وہ ہستیاں ہیں جن کو داستاں کبھی بھلا نہیں سکتی…
تو ان کی وفات کا صدمہ امت مسلمہ کو کیوں نہ ہو، طلب کا شعلہ ٹھنڈا کیسے نہ ہو، ہمت میں فتور پیدا کیونکر نہ ہو، جسمانی حرارت، بدنی تمازت اور جسدی حدت سرد کیسے نہ پڑے، اور ایسا بخار تو آنا ہی چاہیے جو زندگی کو شل اور دنیا کو نامہر کر جائے،
بہر حال! ٢٠٢٠ کی آمد کے بعد جس تسلسل کے ساتھ علماء کرام اس دار فانی سے کوچ کر ابدی زندگی میں منتقل ہو رہے ہیں، جسے سن کر دل کی حرکت تھمنے لگتا ہے، قلب کی دھڑکن گم ہونے لگتی ہے، قلم عکاسی سے مکرنے لگتا ہے، تحریر منفعلانہ انداز میں سرد مہری کا شکار ہونے لگتی ہے، اور جب نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کے فرمان "علم یکبارگی نہیں اٹھایا جائے گا بلکہ علماء کرام کی موت کے ساتھ رفتہ رفتہ علم اس دنیا سے مٹ جائے گا” ذہن میں آتا ہے تو قیامت نظر آنے لگتی ہے،
چنانچہ حالیہ دنوں میں جو علماء کرام اور عظیم شخصیات کا انتقال ہوا ہے ان کا ذکر ترتیب وار کرنے کی جسارت کی ہے، لگے ہاتھوں جو بھی جانکاری اور معلومات مجھے ملیں ہیں مختصراً آپ کے حوالے کر دی ہے، ویسے بھی علماء کرام کے تعزیتی الفاظ اور تعبیراتی کلمات کے باوجود اپنے اندر وہ سکت نہیں پا رہا ہوں کہ محبت اور عقیدت و احترام کے ساتھ دلی جذبات کی ترجمانی کر سکوں اور نہ ہی ان کی علمی خدمات، ادبی کارنامے اور تصنیفی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے نصف نصیف کے احاطے کی طاقت ہے،
بہرحال آپ کے حوالے مختصر خاکہ پیش ہے….
١ – مفسر قرآن ڈاکٹر محمد لقمان سلفی رحمہ اللہ( بانی جامعہ اسلامیہ امام ابن تیمیہ مغربی چمپارن، بہار) وفات :5 مارچ 2020، ریاض، سعودی عرب،
٢ – مولانا فضل الرحمن محمدی رحمہ اللہ … وفات: 25 اپریل 2020، منصورہ مالیگاؤں، ممبئی،
٣- مولانا یوسف جمیل جامعی رحمہ اللہ … وفات :30 اپریل 2020، کرنول، آندھرا پردیش،
٤ – پروفیسر مولانا عین الباری عالیاوی رحمہ اللہ … وفات : 15 مئی 2020،کلکتہ، مغربی بنگال،
٥ – پروفیسر مولانا ثناء اللہ خان رحمہ اللہ …. وفات – 18 مئی 2020،پاکستان،
٦- شیخ الحدیث مولانا عبد الرشید ہزاروی رحمہ اللہ … وفات : 29 مئی 2020،پاکستان،
٧ – شیخ القراء یحیی رسول نگری رحمہ اللہ … وفات :31 مئی 2020 ،پاکستان،
٨ – پروفیسر مولانا عبد الرحمن لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ… وفات :3 جون 2020، پاکستان،
٩- مولانا یوسف بھٹ رحمہ اللہ …. وفات : 5 جون 2020، پاکستان،
١٠ – داعی اسلام مولانا محمد ریاض موسی ملیباری رحمہ اللہ … 8 جون 2020، کیرالہ، ہندوستان،
١١- پروفیسر ڈاکٹر ولی اختر ندوی رحمہ اللہ … وفات : 9 جون 2020، دہلی، ہندوستان،
١٢- مولانا عبد الباری ندوی رحمہ اللہ (سابق سکریٹری جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں، ممبئی) وفات : 22 جون 2020،
١٣ – مولانا علاؤ الدین رحمہ اللہ (سابق استاد جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں، ممبئی) وفات :….
١٤- ڈاکٹر عبد الباری رحمہ اللہ (رکن جامعہ سلفیہ مرکزی دارالعلوم بنارس،و ناظم اعلی جامعہ اسلامیہ خیر العلوم ڈومریا گنج، یو پی،) وفات :10 جولائی 2020، ڈومریا گنج ،یو پی، ہندوستان،
١٥- مفسر قرآن و مصنف حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ (تفسیر احسن البیان…) وفات: 12 جولائی 2020، پاکستان،
١٦ – شیخ الحدیث مولانا علی حسین سلفی رحمہ اللہ (مفتی دارالافتاء والإرشاد،و شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ مرکزی دارالعلوم بنارس ،یو پی،محقق فتح المغیث للسخاوی ) وفات : 23 جولائی 2020، جامعہ سلفیہ ،بنارس اتر پردیش، ہندوستان،
١٧ – ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمن اعظمی رحمہ اللہ ( مؤلف "الجامع الكامل في الحديث الصحيح الشامل،، سابق مایہ ناز استاد جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، سعودی عرب،
آپ رحمۃ اللہ علیہ اعظم گڑھ اتر پردیش کے برہمن پریوار میں بانکے رام کی شکل میں آنکھوں کھولیں اور اللہ کی توفیق سے سترہ سال کی عمر میں مشرف بہ اسلام ہو کر علمی دنیا میں اپنی صلاحیتوں اور ہنرمندی کا پرچم کشائی کی اور مدینہ منورہ کی عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹی میں استاد کی حیثیت سے رہے، تحقیقی اور تصنیفی خدمات انجام دیں بالآخر مدینہ منورہ میں ہی آخری سانس لی)
وفات : 30 جولائی 2020، مدینہ منورہ، سعودی عرب،
١٨- شاعر ڈاکٹر راحت اللہ قریشی اندوری رحمہ اللہ … وفات : 11 اگست 2020 ،اندور ،ہندوستان،
١٩ – مولانا محمد اسلم جامعی رحمہ اللہ (امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث مہاراشٹر ممبئی) وفات : 12 اگست 2020 ،ممبئی، ہندوستان،
٢٠ – مولانا عبد المنان سلفی رحمہ اللہ (مدير مجلہ "السراج” جھنڈا نگر نیپال، و ناظم ضلعی جمعیت اہل حدیث سدھارتھ نگر، یوپی) وفات : 23 اگست 2020 ،سدھارتھ نگر ،اتر پردیش،ہندوستان،
٢١ – مولانا حکیم اجمل خان رحمہ اللہ (سرپرست مجلہ "اہل حدیث” جامعہ سلفیہ میوات، ہریانہ، پنجاب) وفات : 7 ستمبر 2020، ہریانہ، پنجاب، ہندوستان،
٢٢- مولانا شاہد کلیم مدنی رحمہ اللہ (استاد جامعہ محمدیہ مئوناتھ بھنجن، اتر پردیش) وفات :23 ستمبر 2020، مئوناتھ بھنجن ،یو پی، ہندوستان،
٢٣ – جناب شعیب انصاری رحمہ اللہ (ناظم اعلی جامعہ مصباح العلوم السلفیہ اڑیسہ) وفات :25 ستمبر 2020، اڑیسہ، ہندوستان….
یہ وہ مایہ ناز علماء کرام عظیم شخصیات رحمہم اللہ اجمعین ہیں جن کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے سبق آموز اور طلبگاروں کے لیے مشعل راہ ہیں…
قارئین! یہ اسماء تو مشتے نمونہ اور ایک جھلک ہیں پر کتنے کا حزن و ملال، رنج و غم اور سرگشتگی و اضطراب قلب ہیں….
اللہ رب ذوالجلال ان تمام علماء کرام کی بشری خطاؤں کو معاف کر جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ساتھ ہی امت مسلمہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے آمین….
اے اللہ! تیرے جلال و قدوسیت کے بیان کے لیے کتنے ہی الفاظ ڈھالے جائیں، پھر بھی الفاظ و معانی کے سارے ذخائر تیری جلالیت کی تعبیر سے قاصر ہیں،
اے رب دو جہاں! حسرت کو خوشی، غم کو سرور، خوف کو امن و امان میں بدل دے، دل کی اگنی کو یقین کی ٹھنڈک سے بجھا دے، نفس کے شعلے کو ایمانی آب سے سرد کر دے، جاگتی نینوں کو نیند، مضطرب نفسوں کو سکون عطا فرما، بے بصیرتوں کو اپنا نور دے، کشتگان راہ ضلالت کو اپنا راستہ دکھا دے، دلی وسوسے کو نورانی شعاعوں سے زائل کر دے اور دل و دماغ میں ایمانی کرن بھر دے…. آمين…
أللهم اغفر لهم وارحمهم برحمتك يا أرحم الراحمين، استغفر الله لي ولكم ولجميع المسلمين والمسلمات والمؤمنين والمؤمنات الأحياء منهم والأموات…..
نوٹ :- ‘( یہ معلومات سوشل میڈیا اور استفسار کے بعد حاصل کی گئی ہے، خصوصی طور پر ہمارے استاد محترم شیخ أبو صالح دل محمد سلفی کی تحریر سے ماخوذ ہیں، اگر کسی طرح کی کوئی غلطی قلمبند ہے تو ضرور آگاہ کریں ساتھ ہی نیک مشورے سے بھی نوازیں…. شکراً….’)
