آج کے مصروف طرزِ زندگی اور غیر متوازن غذا کے باعث وٹامن کی کمی ایک عام مگر تشویشناک مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق جسم کو درکار ضروری وٹامنز کی کمی نہ صرف روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ کئی سنگین بیماریوں کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
وٹامن اے، بی، سی، ڈی، ای اور کے انسانی جسم کی نشوونما، قوتِ مدافعت، ہڈیوں کی مضبوطی، خون کی روانی، بینائی اور اعصابی نظام کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ان میں سے کسی ایک وٹامن کی کمی بھی جسم میں مختلف مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
وٹامن ڈی کی کمی سے ہڈیوں اور پٹھوں میں درد، شدید کمزوری اور تھکن محسوس ہو سکتی ہے، جبکہ وٹامن بی 12 کی کمی خون کی کمی، ہاتھ پاؤں میں سن ہونا اور یادداشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اسی طرح وٹامن سی کی کمی سے مسوڑھوں سے خون آنا، زخموں کا دیر سے بھرنا اور بار بار انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ وٹامن اے کی کمی بینائی، خصوصاً رات میں دیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ پھل، سبز پتوں والی سبزیاں، دودھ، دہی، انڈے، مچھلی، دالیں اور خشک میوہ جات متوازن غذا کا حصہ بنانا چاہیے۔ روزانہ چند منٹ دھوپ میں رہنے سے جسم کو قدرتی طور پر وٹامن ڈی حاصل ہوتا ہے، جو ہڈیوں کی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔
اگر مسلسل کمزوری، غیر معمولی تھکن، بالوں کا زیادہ گرنا، جلد کی خرابی یا ہڈیوں میں درد جیسی علامات ظاہر ہوں تو خود علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ خون کے ٹیسٹ کے ذریعے وٹامن کی کمی کی تشخیص کے بعد ہی سپلیمنٹس استعمال کیے جائیں، کیونکہ ضرورت سے زیادہ وٹامنز بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرکے وٹامن کی کمی سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ بروقت احتیاط اور مناسب علاج نہ صرف بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ صحت مند اور خوشگوار زندگی کی ضمانت بھی بنتا ہے۔