نئی دہلی: مسلسل 23 روز تک جاری رہنے والے احتجاجی روزے کے بعد معروف سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک نے اپنا انشن ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ مرکزی وزیر جے پی نڈا سے احتجاجی وفد کی ملاقات کے بعد یہ اہم پیش رفت سامنے آئی۔
سونم وانگچک نے تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملات میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور طلبہ سے متعلق مسائل کے مستقل حل کے مطالبات کے حق میں 28 جون سے بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ طویل انشن کے باعث ان کی طبیعت ناساز ہونے پر انہیں اسپتال میں بھی داخل کرایا گیا تھا۔
بعد ازاں احتجاجی وفد نے مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات کی، جس میں حکومت نے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس کے بعد سونم وانگچک نے اپنا انشن ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مطالبات کی مکمل منظوری اور عملی اقدامات تک جدوجہد جاری رہے گی۔ اس تحریک کو ملک بھر کے طلبہ، سماجی تنظیموں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل رہی، جبکہ نئی دہلی میں احتجاج کے دوران سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔