نئی دہلی: جنتر منتر پر جاری احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھی چارج کے بعد ابھیجیت دیپکے کی والدہ انیتا دیپکے نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کارروائی کے بعد انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ "کیا ہمارے بچے دہشت گرد ہیں؟”
انیتا دیپکے نے کہا کہ طلبہ پرامن طریقے سے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے تھے، ایسے میں ان پر طاقت کا استعمال ہرگز مناسب نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کئی دنوں سے ان کا اپنے بیٹے سے رابطہ نہیں ہو سکا، جس کی وجہ سے پورا خاندان شدید تشویش میں مبتلا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کے مطالبات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور ان کے ساتھ انصاف کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابھیجیت گزشتہ ایک ماہ سے گھر سے باہر ہے اور اس کی سلامتی کے حوالے سے خاندان کو شدید فکر لاحق ہے۔ ان کا کہنا تھا، "ہمارے بچے ملک کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں، پھر انہیں مجرموں یا دہشت گردوں کی طرح کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟”
ادھر ابھیجیت دیپکے کے والد نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی بات سنی جانی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ بھی اپنے بیٹے کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوں گے۔