وقف بل کے نتائج ملنا شروع ہوگئے


✍️: پرویز نادر
وقف بل کے پاس ہونے کے اگلے ہی دن جب کہ ابھی اس بل پر صدر جمہوریہ کے دستخط باقی ہیں اور عملی طور پر وہ بل قابل عمل بھی نہیں ہوا اسلام دشمنی میں نمایاں چہرہ وزیر اعلیٰ اترپردیش ہوگی آدتیہ ناتھ نے ایک آمرانہ فرمان جاری کیا ہے جس کے تحت جتنی ایسی زمینیں ہیں جس پر کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے یا متنازع زمین ہے لیکن اس پر اوقاف نے اپنا دعویٰ کیا ہوا ہے ان ساری زمینوں کو سرکاری املاک میں شامل کرنے کا حکم نامہ ہے۔ جس پر سرے سے کوئی سنوائی ہوگی نا اوقاف کا ادارہ اس پر اپنا دعویٰ کر سکتا ہے ،پھر وہ زمین چاہے قبرستان ہو،یا مسجد ہو یا پھر کوئی مدرسہ، اور یوپی کے اس ظالم شخص کی جو تصویر اسلام دشمنی میں ابھی تک بنی ہوئی ہے وہ سبھی اسلام دشمن افراد پر سبقت مارنے کے لیے اوقاف کی زمینوں کو نقصان بھی سب سے زیادہ پہنچائے گا۔ پہلے جو مساجد اوقات کے تحت تھیں تو یہ ظالم اس کے مندر ہونے کے دعویٰ کرتے تھے اب یہ ہوگا کہ سرے سے اس کی قانونی حیثیت ہی ختم کردی جائے گی اور عدالت تک جانے کی بھی نوبت نا آنے دی جائے گی ،یہ صورت حال بہت خطر ناک ہے اسی لیے مسلمانوں کے لیے کسی بھی صورت غفلت اور اس کالے قانون پر سمجھوتہ اللہ کے گھروں کی پامالی اور اپنے مدرسوں ،قبرستانوں ،عید گاہوں، سے محرومی کا سبب بنے گی،اس لیے اس کالے قانون کی مخالفت سے پیچھے ہٹنا چاہیے اور نا قربانی دینے سے گریز کرنا چاہیے

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading