
تحریر:سید فاروق احمد‘اورنگ آباد
9823913213 sfahmed.syed@gmail.com
2019 الیکشن سے قبل شدت پسند ہندﺅوں کو بہکاکرووٹوں کو سمیٹنے کا کام آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں (بی جے پی ‘شیوسینا)کی جانب سے بڑی تیزی سے ملک میں کیا جارہا ہے۔ایک طرف جہاں مودی نے فرقہ پرستوں کو ملک میں کچھ بھی کر گزرنے کی کھلی آزادی دی ہے۔وہیں دوسری طرف کچھ آستین کے کالے سانپ زخموں کو مزید گہرا کرنے میں لگے ہیں۔
پچھلے چار سالوںسے ملک میں فرقہ پرستی اور شدت پسندی کا جو ننگا ناچ اس حکومت نے کیا ہے شاید ہی اس سے پہلے اتنی آزادی اور کھلے پن سے کسی دور میں کیا گیا ہوگا۔ گائے کے نام پر بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کو قتل کرنے کا معاملہ ہو یا پھر طلاق ثلاثہ کا معاملہ یا پھر نہتے مسلمانوں کو ماب لنچنگ کے نام پر ماردیا جانا ہو۔ملک کو ترقی کی راہ پر لانے کے لئے جن چیزوں کی واقعی ضرورت ہے وہ تو درکنار بے چارے چھوٹے موٹے کاروباری پہلے تو نوٹ بندی سے پریشان ہوئے اور پھر جی ایس ٹی نے ان کی مکمل طور پر کمر توڑ کر رکھ دی۔اور اس کے علاوہ ابھی شہروں اور ریاستوں کے نام بھی بدلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ وکاس کے انتظار میں لوگ اب بس 2019 الیکشن کا انتظار کررہے ہیں۔
جیسے جیسے الیکشن قریب آرہا ہے ویسے ویسے فرقہ پرست چیلے اپنی چالوں کو عملی جامہ پہنانے میں لگے ہوئے ہیں۔اسی سلسلہ کی ایک کڑی کل یوٹیوب پر ریلیز کئے گئے رام جنم بھومی سے متعلق ایک فلم کے ٹریلرکی ہے۔
ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کو لے کرایک طرف وشو ہندو پریشد دھرم سبھاکی زور وشور سے تیاریوں میں مصروف ہیں وہیں مندر کی حمایت میں کھڑے آستین کے سانپ شیعہ وقف بورڈ کے ملعون وسیم رضوی نے رام جنم بھومی پر فلم بنادی ہے۔ مکاروسیم رضوی نے لکھنومیں رام جنم بھومی فلم کا ٹریلر لانچ کیا۔ اس فلم کے ایک سین میں شیعہ وقف بورڈ کے چیرمین خبیث وسیم رضوی نے یزید کے ساتھ ساتھ فاتح شام کاتب وحی حضرت امیر معاویہ پر(نعوذ باللہ) لعنت بھیجی ہے۔ نسل بد وسیم رضوی نے اس سین میںکہا کہ ”لعنت ہو یزید اور اس کے با پ معاویہ پر جس کی پیروکاری نے تمہارے دلوں سے حق پرستی چھین لی۔“ فلم میں گدھے کی لیدوسیم رضوی نے ایک بار پھر دہرایا کہ ہم اس جگہ کو مسجد نہیں مانتے ہیں مندروں کو توڑ کر مسجد بنائی گئی ہے۔ ایودھیا میں رام جنم ہوا تھا دنیا اسے جانتی ہے۔ دھرتی پر بوجھ نالائق کتے کا پلید وسیم رضوی نے کہا کہ میںنے دونوں مسلکوں کے درمیان سمجھوتے کی کئی بار کوشش کی مگر کامیاب بھلے نہیں ہوا لیکن ناامید نہیں ہوں۔ منافق نے کہا کہ میری یہ فلم ایودھیا میں کارسیوکوں پر گولیاں چلانے سے شروع ہوتی ہے۔ اس فلم کے تعلق سے کتے کی رال کا کہنا ہے کہ مسلمانوں میں شدت پسندی کے خلاف ہم نے آواز اٹھائی ہے۔ اس کے علاوہ اس فلم میں لعنتی کی طرف سے طلاق کا بھی مذاق اڑایاگیا ہے۔مذہب اسلام کا مذاق اڑاتے ہوئے اس فلم کے ایک سین میں اداکارہ کہتی ہیں کہ ہم ایک ایسے مذہب میں پیدا ہوگئے جہاں گھر کی بہو کے ساتھ حلالہ کے نام پر خسرہم سے بستر گرم کرتا ہے۔ اس فلم میں سدانندشاستری ایک اہم کردار میں ہے۔ ویلن کے لئے مولانا جعفر خان کا نام استعمال ہوا ہے جسے پاکستان کا ایجنٹ بتایا گیا ہے مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لئے امارت شرعیہ کا دفتر کھول کر ملک کے مسلمانوں کو بھڑکاتے ہوئے دکھایاگیا ہے جس کی اصلیت ٹریلر کے آخر میں کھلتی ہوئی دکھائی گئی ہے۔ جس کے بعد وہ ملک چھوڑ کر فرار ہوجاتا ہے۔ ناپیکار سور کی لید نے کہا کہ مخصوص مذہب کو فلم میں نشانہ نہیں بنایاگیا ہے بلکہ ایک اچھا اور ایک برا کردار دکھایا گیا ہے۔شیطانی ماسٹر مائنڈ نے کہا کہ مغلوں کے سربراہ بابر کے کچھ بھٹکے ہوئے حامی ۶۱ ویں صدی میں ایودھیا میں میر باقی کے ذریعہ بنائے گئے متنازعہ ڈھانچہ کے نام پر ملک کا ماحول خراب کررہے ہیں۔ دردسر نے مزید کہا کہ میر باقی شیعہ تھا لہذا بابری مسجدشیعہ وقف بورڈ کی ملکیت ہے بورڈ کے صدر ہونے کے ناطے میں اس زمین پر اپنا دعویٰ کر ررہا ہوںاور مندر بنائے جانے کا مطالبہ کررہا ہوں انہو ںنے اس مسئلے کو لے کر دونوں فریق کو ساتھ لے کر متنازعہ مقام پر مندر بنانے او رلکھنو میںمسجد امن بنانے کا مشورہ دیا تھا لیکن ان کے مشورہ کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فلم رام جنم بھومی ۰۳ اکتوبر سے ۲ نومبر ۰۹۹۱ کے درمیان ان وارداتوں کو بنیاد بناکر فلمایاگیا جب ہندو کارسیوکوں پر گولیاں چلائی گئی تھی۔ انڈے نے دعویٰ کیا کہ دسمبر میں ریلیز ہونے جارہی اس فلم میں کسی مذہب پر نشانہ نہیں سادھا گیا ہے بلکہ اس میں طلاق ثلاثہ اور حلالہ جیسی سماجی برائیو ںکو ظاہر کیا گیا ہے تقریباً سوادوگھنٹے کی اس فلم میں بالی ووڈ کے کئی اہم اداکاروں نے فرقہ پرستی کو ہوا دینے کی خاطر اپنی اداکاری سے اس فلم کو منحوس بنایا ہے۔
واضح رہے کہ وسیم رضوی نے اس سے پہلے بھی زعفرانی ذہنیت کا ثبوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب رام کا مندر ایودھیا میں بنے گا تو میں اپنی جانب سے مورتی کے ہاتھ میں رہنے والی تیرکمان کیلئے سونا کا عطیہ کرونگا اور یہ بھی کہا تھا کہ ہمایوں کے مقبرہ کو منہدم کرکے وہاں ایک وسیع وعریض قبرستان بنادینا چاہئے۔ اس کے علاوہ منحوس نے یہ بھی کہا تھا کہ ہندوستان میں مدرسوں کو بند کردینا چاہئے کیونکہ مدرسوں کو چلانے کے لیے پیسے پاکستان اور بنگلہ دیش سے بھی آتے ہیں اور کچھ دہشت گرد تنظیمیں بھی ان کی مدد کر رہی ہیں۔
غرض یہ کہ اس طرح کے بیانات دے کر اورہندوتوا کی پشت پناہی کرکے وہ مرکزی اور یوپی کی بھاجپائی اور آر ایس ایس حکومتوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور خود کو عہد حاضر کے میر جعفر اور میر صادق ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ واضح ہوکہ شیعہ وقف بورڈ اور وسیم رضوی کی کوئی مستند حیثیت خود شیعوں میں نہیں ہے۔ مولانا کلب صادق نائب صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی شیعہ وقف بورڈ کی ان ناپاک کوششوں کی تائید نہیں کی اور نہ ہی آل انڈیا بورڈ کے اس فیصلے سے اختلاف کیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے۔ شیطانی چیلے وسیم رضوی عوام اور حکومت کو گمراہ کررہے ہیں کہ ان کو ملک بھر کی شیعہ برادری کی نہ صرف نمائندگی کا حق ہے بلکہ شیعہ عوام کے وہ مسلمہ نمائندے ہیں اور بابری مسجد کی زمین کی ملکیت شیعوں کی ہے اس لئے وہ مسجد کی زمین کو شیعہ برادری کی طرف سے رام مندر کی تعمیر کیلئے دینے کے لئے تیار ہیں ! تاکہ یہ دیرینہ تنازعہ ختم ہوسکے۔اور جھگڑوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے۔
اس کے علاوہ لعنتی وسیم رضوی کو حکومت اورسنگھ پریوار کی مکمل حمایت حاصل ہے لعنتی کے مطابق اگر بابری مسجد 1949ءمیں ایک شیعہ مسجد تھی تو آج تک شیعہ برادری شیعہ وقف بورڈ اور کوئی شیعہ عالم قائد یا دانشور کہاں تھے؟ اور کیوں خاموش تھے؟
بقول مولانا کلب جواد اپنے جرائم کی سزا سے بچنے کے لئے وسیم رضوی نے یہ کھیل شروع کیا ہے جو کامیاب نہیں ہوسکتاہے۔ شیعہ وقف بورڈ کا بابری مسجد سے کوئی تعلق نہ رہا ہے اور نہ ہی ہوسکتا ہے۔ اس لئے وسیم رضوی کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
فلم بنانے کا مقصد صرف یہی ہے کہ بی جے پی حکومت اور مندر کمیٹی کی یہ مشترکہ سازش کے ذریعہ مقدمہ پر اثر ڈالا جائے اور سب سے بڑھ کر شیعہ سنی اختلافات پیدا کئے جائیں لیکن شیعہ فرقہ پر وسیم رضوی اوراس کے ایک حامی یعسوب عباس جیسے بھاجپائی ایجنٹوں کا کوئی اثر نہیں ہے اس لئے شیعہ سنی اختلافات کو ہوادینے اور تنازعات پیدا کرنے کی سازش بھی ناکام ہوچکی ہے۔لیکن ان سب سے کچھ نہیں بن پڑا تو ملعون وسیم رضوی نے رام جنم بھومی جیسی فلم بناکر اپنی ناپاک ذہنیت اور فرقہ پرستی کو مزید ہوا دینے کی کوشش کی ہے۔
ہم تمام مسلک ومکتب فکر کے علمائے کرام سے گذارش کرتے ہیں کہ اس ملعون کوپہلے تو بڑے مہذب اور پیار بھرے انداز میں دین کی دعوت دی جائے اور اسے سمجھایا جائے ورنہ خارج از اسلام کیا جائے اور اسے جلد از جلد شیعہ وقف بورڈ کے زبردستی بیٹھے ہوئے عہدے پر سے ہٹایاجائے۔ کیونکہ اس طرح کی فلمیں شیعہ سنی مسلکی تضاد کو ہوا دے گی ساتھ ہی ساتھ گنگا جمنی تہذیب کو بھی ٹھیس پہنچائے گی۔فلم رام جنم بھومی یہ ایک ایسا دستوری جرم ہے جس کے خلاف ملک کے ہر پولس اسٹیشن میں مذہبی جذبات بھڑکانے اور اسے ٹھیس پہنچانے کے بابت کیس درج کیا جاسکتا ہے اور اسے قانونی سزا ہوسکتی ہے۔
سنگھیوں اور ملک میں زعفرانی ٹولوں کویہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ۹۱۰۲ الیکشن کو جیتنے اور اقتدار پر دوبارہ قابض ہونے کے لئے اب صرف ان کے پاس یہی ایک بابری مسجد کا موضوع بچا ہوا ہے اس کے علاوہ ای وی ام مشین ہی انہیں بچا سکتی ہے۔
بہر کیف !اس طرح کے معاملات میں صرف ملعون وسیم رضوی ہی مجرم نہیں ہیں بلکہ پیٹھ پیچھے ہندوراشٹر بنانے اور ہندوتوادی کو سہارا دینے کے لئے ہماری اپنی صف میں موجود منافقین کی ایک لمبی فہرست ہے جوبی جے پی مائناریٹی مسلم لیڈرس فورم، راشٹریہ مسلم منچ،آل انڈیا علماءبورڈ کے خود ساختہ علماءکی شکل میں موجود ہیں۔ان تمام کو بھی اپنے ایمان کا محاسبہ کرنا ہوگا ۔ورنہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہیں کہ ہر دور میں اپنوں ہی کی وجہ سے ہم نے ستم ڈھائے ہیں کیونکہ
بھائی گر مدمقابل ہو تو حیرت کیسی
دوستوں جنگ کے میداں میں مروت کیسی
گھر کی دیوار میں خود تم نے ہی کئے ہیں سوراخ
اب کوئی جھانک رہا ہے تو شکایت کیسی