مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت سازی کے لیے متحرک، امت شاہ مرکزی مبصر مقرر، جے پی نڈا کو ملی آسام کی ذمہ داری

نئی دہلی: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی ریاست میں حکومت سازی کے لیے متحرک نظر آ رہی ہے۔ اسی سلسلے میں پارٹی نے اہم تنظیمی فیصلے لیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو مغربی بنگال میں پارٹی کے قانون سازوں کے لیڈر کے انتخاب کے لیے مرکزی مبصر مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اوڈیشہ کے وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی کو مرکزی معاون مبصر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جو امت شاہ کے ساتھ مل کر لیڈر کے انتخاب اور میٹنگ کے عمل کو مکمل کرائیں گے۔

پارٹی کی جانب سے جاری پریس بیان میں یہ معلومات قومی جنرل سکریٹری ارون سنگھ نے فراہم کیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے پارلیمانی بورڈ نے مغربی بنگال میں حکومت سازی کے لیے ضروری اقدامات شروع کر دیے ہیں اور جلد ہی قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کر لیا جائے گا۔ اس عمل کو شفاف اور منظم بنانے کے لیے سینئر قیادت کو ذمہ داری دی گئی ہے تاکہ نئی حکومت کے قیام میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔

دوسری جانب آسام میں بھی بی جے پی نے اپنی حکمت عملی کو آگے بڑھاتے ہوئے مرکزی وزیر جے پی نڈا کو قانون ساز پارٹی کے لیڈر کے انتخاب کے لیے مرکزی مبصر مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی کو مرکزی معاون مبصر بنایا گیا ہے، جو اس عمل میں جے پی نڈا کی مدد کریں گے۔

مغربی بنگال میں بی جے پی نے پہلی بار کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکومت بنانے کا راستہ ہموار کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق بی جے پی کو 207 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس کو 80 نشستوں پر کامیابی ملی۔ اس کے علاوہ کانگریس کو دو اور سی پی آئی ایم کو ایک نشست حاصل ہوئی ہے۔

وہیں آسام میں بی جے پی نے اپنی جیت کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے مسلسل تیسری بار اقتدار حاصل کیا ہے۔ این ڈی اے اتحاد نے 126 میں سے 102 نشستوں پر کامیابی درج کی ہے، جن میں بی جے پی کو 82 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ اس کے اتحادی بوڈو پیپلز فرنٹ اور آسام گن پریشد کو دس دس نشستیں ملی ہیں۔ کانگریس کو 19 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق دونوں ریاستوں میں جلد ہی قانون ساز پارٹی کے لیڈروں کے انتخاب کے بعد حکومت سازی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا اور نئی حکومتیں حلف لیں گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading