اورنگ آباد:(جمیل شیخ):تبلیغی جماعت مہاراشٹر کے امیر حافظ منظور کی دعا پر کرماڑ میں جاری دوروزہ ضلع اجتماع کا اختتام گزشتہ اتور کی رات عمل میں آیا۔
واضح رہے کہ کرماڑ میں ضلع سطح کا دوروزہ تبلیغی اجتماع منعقد کیاگیا تھا مگر بندگان توحید دورروز قبل ہی وہاں پہنچنا شروع ہوگئے تھے دو روز تک علمائے اکرام اور دیگر ذمہ داران نے قرآن وحدیث کی روشنی میں حاضرین کی رہنمائی کی۔ تبلیغ جماعت مہاراشٹر کے امیر حافظ منظور کی دعا پر نماز عشاء سے قبل دو روزہ اجتماع کا اختتام عمل میں آیا۔ دعا میں لاکھوں بندگان توحید شریک ہوئے او راپنے رب کے حضور گڑگڑاکر اپنے گناہوں کی معافی مانگی حافظ منظور نے پوری انسانیت کی فلاح وبہبود سارے عالم میں امن وسکون حرمین شریفین او رتمام دینی اداروں اور دینی کاموں اور بالخصوص ہمارے ملک کی حفاظت کے لئے دعا فرمائی
دعا سے قبل دعا سے پہلے بعد نماز مغرب مولانا مبین پونہ والے نے مجمع سے خطاب کیا اور بتایا کہ اللہ کے رسول حضرت محمدؐ پوری انسانیت کی ہدایت کے لے تڑپتے تھے جس کے لئے آپؐ نے بڑی قربانیاں دیں اور کئی کئی دنوں تک فاقے کئے دو دوماہ آپ کے گھرچولھا نہیں جلتا تھا کھجور او رپانی پر گزارا کرکے ساری انسانیت کی بقاء اور ہدایت کی فکر میں لگے رہتے۔ مولانا مبین نے آپؐ اور آپ کے صحابہ کی قربانیوں کے کئی واقعات کا ذکر کیا اور بتایا کہ حجتہ الوداع کے موقع پر ایک لاکھ ۴۲ ہزار صحابہ آپ کے ساتھ تھے جن میں سے ایک لاکھ ۴۱ ہزار صحابی اللہ کے دین کی تبلیغ کے لئے دنیا بھر میں دوردراز کے مقامات پر بے سروسامانی کی حالت میں پھیل گئے اور دین اسلام کو پھیلانے میں کے لئے اپنی زندگی صرف کردی۔ علماء اکرام نے کہا کہ امت مسلمہ کی تمام پریشانیوں کا حل اللہ کی فرماں برداری اور اطاعت رسول میں ہے۔ اور دین اسلام ہمارے دوسرے بھائیوں تک پہنچانا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے
اس موقع پر علمائے اکرام کے لئے بھی علیحدہ نشست رکھی گئی جہاں انہیں ان کی ذمہ داریوں سے واقف کروایاگیا اس دوروزہ اجتماع میں شہر وضلع سے لاکھوں بندگان توحید شریک ہوئے اجتماع کے لئے گزشتہ روزبرادران اسلام نے اپنا کاروبار بند رکھا اور مسلم علاقوں میں سناٹا چھایا رہا اور لوگ ٹووہیلر اور فوروہیلر گاڑیوں پر اجتماع میں شرکت کے لئے روانہ ہوئے جن کی رہبری او رٹریفک بحالی کے لئے سینکڑوں والنٹیرس خدمات پر مامور تھے جو ٹریفک کو کنٹرول کررہے تھے جگہ جگہ اجتماع میں شرکت کے لئے جانیوالوں کی ضیافت کی گئی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے کھانے پینے کا بھی خیال رکھا گیا اجتماع کے دوران بابرکت اور نورانی نشستوں کا انعقاد دو دنوں تک جاری رہا اور لاکھوں بندگان توحید نے علمائے کرام کی نصیحتوں پر اللہ کی رسی مضبوطی سے تھامے اور نبی کریم کی تعلیمات پر عمل کرنے کا ارادہ کیا۔