نیوزی لینڈ پولس چیف نائلہ حسن دوران خطاب اشک بار، اپنے مسلم ہونے پر دیکھیئے کیا کہا ؟

کرائسٹ چرچ: نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹچرچ کی مسجدوں پر ہوئے دہشت گردانہ حملے سے پورا نیوزی لینڈ غمزدہ ہے،ہر کوئی مسجدوں کے باہر شہیدوں کو خراج عقیدت اور مسلمانوں سے ہمدردی دکھانے کے لئے پھول رکھ رہے ہیں،اور مسلمانوں سے ملنے کے لئے مسجدوں میں جارہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم اس دکھ کی گھڑی میں مسلمانوں کے کے ساتھ ہیں اور وہ اس پر گہرے دکھ کا اظہار بھی کر چکی ہے،عوام کے بیچ بھروسہ برقرار رکھنے کے لئے پولیس ہر طرح سے اچھا پیغام جاری کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

نیوزی لینڈ پولیس کی سینئر پولیس آفسر نائلہ حسن نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے اپنے آپ پر قابو نہ رکھ پاتے ہوئے جذباتی ہوگئی،نائلہ حسن نے آکلینڈ میں ہزاروں لوگوں سے کہا: “مجھے فخر ہے کہ میں مسلم ہوں اور میں نیوزی لینڈ پولیس میں ایک آفسر ہوں میں بھی کرائسٹ چرچ حملے سے خوفزدہ ہوں۔”

“مجھے پتہ ہے که یہ مخصوص طور سے ہمارے مسلم سماج کے لئے ایک بہت ہی دکھ کی بات ہے، لیکن ہمارے سماج میں ہر کسی کے لئے جگہ ہے”

“ہم ہر کسی کو تیقن دلانا چاہتے ہیں که ہم اس دہشت گردانہ حملے کے متاثرین کیساتھ عزت کے ساتھ برتاؤ کرنے کے لئے ہم سب کچھ کر رہے ہیں۔

“میں چاہتی ہوں که ہمارے مسلم سماج خصوصی طور پر جانتے ہیں، اور کرائسٹچرچ کے لوگوں کو پتہ ہے، که ہم آپکے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم سبھی آپکے دکھ اور آپکے درد میں بانٹتے ہیں۔

“ہم، نیوزی لینڈ پولیس، ہمارے سماج اور خصوصی طور پر ہمارے مسلم فرقے کی حمایت کرنے کے لئے ہم سب کچھ کر سکتے ہیں، و انشااللہ

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading