نیوزی لینڈ میں ’بائکرز گینگ‘ مساجد پر پہرہ دیں گے

  • نیوزی لینڈ میں بڑی موٹر سائکلیں چلانے والے گروہ یا جنہیں عرف عام میں بائکرز گینگ کہا جاتا ہے، کہا ہے کہ وہ جمعہ کی نماز کے دوران مساجد کے باہر پہرہ دیں گے۔ کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر گزشتہ ہفتے ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد، جمعہ کو پہلی نماز جمعہ ادا کی جائے گی۔مونگریل موب، کنگ کوبرا اور دی بلیک پاور نامی گروہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ملک بھر میں مقامی مسلمان برادریوں کی مدد اور تحفظ کریں گے۔کرائسٹ چرچ میں گزشتہ جمعہ کو دو مساجد پر ہونے والے حملے میں پچاس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

مونگریل موب کے صدر سونی فٹو نے کہا کہ وہ ہیملٹن شہر کی جامع مسجد کی حفاظت پر معمور ہوں گے۔ فٹو نے ایک خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی اس وقت تک مدد کریں گے جب تک وہ چاہیں گے۔‘ ان کے مطابق ان کے گروہ کے لوگوں نے رابطہ کرکے بتایا تھا کہ مسلمانوں کمیونٹی کو جمعہ کی نماز کے دوران بعض خدشات کا سامنے ہے۔

فٹو نے کہا،’بلاشبہ ہم ان کی حفاظت کے لیے موجود ہوں گے اس پر کوئی دو رائے نہیں اور ہم اس موقع کے لئے مناسب لباس پہنیں گے۔ ہم مسلح نہیں ہوں گے، لیکن ہم کمیونٹی کے دیگر لوگوں کے ہمراہ مسجد پر پہرہ دیں گے تاکہ نمازیوں کو تحفظ کا احساس ہو۔‘

bikers
ویکاٹو مسلم ایسوسی ایشن کے سربراہ ڈاکٹر اسد محسن نے کہا کہ انہیں ملک کے مختلف حصوں اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی جانب سے مدد اور حمایت مل رہی ہے جس کے لیے وہ بہت شکرگزار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’ہم بائکرز کو خوش آمدید کہیں گے کہ آئیں ہمارے ساتھ عبادت کریں۔ وہ ہمارا حصہ ہیں اور ہم ان کا حصہ ہیں۔‘ڈاکٹر محسن کے مطابق انہیں کوئی خوف نہیں ہے اور مسلمان خوفزدہ نہیں اور بائکرز ہمارے ساتھ اندر آسکتے ہیں اور پہلی صفوں میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں۔کنگ کوبرا گینگ کے ارکان نے بھی پون سونبی کی مرکزی مسجد میں جاکر ہلاکتوں پر دکھ کا اظہار کیا اور مرنے والوں کے لیے دعا کی۔بائکرز کے گینگ دوسرے شہروں میں بھی مساجد کے ساتھ یکجہتی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ آسٹریلیا میں قائم ایک بائکر گینگ کے ارکان نے بھی سڈنی کی ایک مسجد کے آس پاس گشت کر رہے تھے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading