بھیونڈی کے مفاد کے لئے ہمیں قدرتی طریقوں سے بجلی حاصل کرنے کی راہ میں قدم اٹھانا ضروری ہے۔ خالد گڈو راشٹروادی کانگریس

بھیونڈی ( شارف انصاری):- شہر کے دانشور اور تعلیم یافتہ طبقہ نے بجلی کی فراہمی کے لیے مصنوعی طریقے سے ہٹ کر قدرتی طریقے سے بجلی حاصل کرنے کی طرف شہر کی توجہ دلانے کی ایک اہم پہل کی ہے۔
سارے ہندوستان میں جہاں جہاں بجلی فراہم کی جاتی ہے ان تمام شہروں میں سب سے ذیادہ فی یونٹ بل بھیونڈی شہر میں وصول کیا جاتا ہے ۔ پاورلوم کا مانچییسٹر ہونے کی وجہ سے شہر میں بجلی کی بے حد کھپت ہوتی ہے۔اسلیے شہر کو قدرتی طریقے سے بجلی حاصل کرنا چاہیے اسکا سب سے بہتر طریقہ سولار پینل کے زریعے بجلی کا حصول ہے، اس کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے بھیونڈی کے جی ایم وومینس ایڈوٹوریم میں مورخہ۲۴ مارچ ۲۰۱۹ کو بروز اتوار سولار سسٹم کا ایک معلوماتی سیمنار منعقد کیا گیا ہے، جس میں کے کے اینڈ ایسوسی ایٹس کے سی ایم ڈی کے کے دراج، کا سمک ارجا کے سی ای او پروشتم پانڈے،انڈین ریلوے کے سینئر سیکشن اینجنئیر سشیل کمار گایئکواڑ،ائینجنئر فروز انصاری بجلی کی فراہمی میں سولار پینل کے استعمال اس کے فائدے سے متعلق اہم معلومات فراہم کرینگے۔معاز فاروقی،اویس انصاری، رافع انصاری،مہیش بدلا پورکر،التمش پٹیل اس سیمینار کے کنوینر س ہیں۔اتوار کو ۱۱ بجے ہونے والے اس سیمنار کی اہمیت بتلاتے ہوئے بھیونڈی راشٹروادی کانگریس کے صدر خالد گڈو نے نامہ نگار کو بتایا کہ سولار پینل کا استعمال ٹورینٹ کمپنی کی من مانی کا بہترین جواب ہے، انہوں نے خود اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بنگلے کا بجلی کا بل چالیس ہزار روپئے ماہانا آیا کرتا تھا مگر جب سے انہوں نے سولار پینل لگایا ہے انکا بل اب صرف نو سو سے ایک ہزار روپئے کے درمیان ہی آتا ہے،حکومت بھی سولار پینل لگانے کے لیے تحریک دیتی ہے اور صارف کو ۳۰ فیصد سبسیڈی بھی آفر کی جاتی ہے، اسلیے بھیونڈی شہر میں بڑے پیمانے پر سولار پینل لگا کر قدرتی بجلی حاصل کرنے کی تحریک شروع کرنی ضروری ہے تاکہ لوگ ٹورینٹ کمپنی کے من مانے اور ظالمانہ طریقے سے بچ سکے۔انہوں نے بھیونڈی کی عوام سے اور خاص طور پر تعلیم یافتہ اور با شعور طبقہ سے اپیل کی ہے اس سیمینار میں بڑی تعداد میں شرکت کریں اور قدرتی طریقے سے بجلی کے حصول کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے حکومت کی اس پالیسی کا پورا فائدہ اٹھا کر شہر کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading