نیتاجی سبھاش چندر بوس کے نظریات میں ’سی اے اے‘ کی کوئی جگہ نہیں: سوگتا بوس

کولکاتا: نیتاجی سبھاش چندر بوس کی وراثت پر جاری بحث کے دوران بوس کے بڑے بھائی کے پوتے و سابق ممبر پارلیمنٹ سوگتا بوس نے کہا ہے کہ نیتاجی سبھاش چندر بوس کے نظریات میں شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی جیسے عمل کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

ہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف مغربی بنگال جمعیۃ علماء ہند کے سہ روزہ دھرنا کے آخری دن خطاب کرتے ہوئے سنیچر کے روز ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر سوگتا بوس نے کہا کہ گاندھی اور نیتاجی سبھاش چندر بوس کے ملک میں اس طرح قوانین کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہریت ترمیمی ایکٹ ملک کو تقسیم کرنے والا قانون ہے اور نیتاجی سبھاش چندر بوس کی وراثت پر عمل کرنے دعویداروں کو یہ زیب نہیں دیتا ہے ۔بوس نے کہا کہ نیتاجی کے نام پر دھوکہ دیا جا رہا ہے ۔

سوگتابوس نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند سے ان کا رشتہ کافی پرانا ہے وہ اپنے والد ششیر بوس جو نیتاجی سبھاش چندر بوس کے بڑے بھائی سرت چندرا بوس کے صاحب زادے ہیں کے ساتھ اپنے بچپن میں کلکتہ میں منعقد ہونے والے جمعیۃ علماء کے پروگراموں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کی جدو جہد میں ملک کا ہر طبقہ شامل تھا ۔

بوس نے کہا کہ نیتاجی سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج میں جہاں لیفٹیننٹ کے جے بھونسلے، لیفٹیننٹ ایم زیڈ کیانی تھے وہیں لیفٹیننٹ عزیزاحمد اور جنرل شاہنواز بھی شامل تھے۔

بوس نے کہا کہ ملک بھر میں اس وقت شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مہم چل رہی تھی وہ جدو جہدآزادی سے کم نہیں ہے ۔ بوس نے کہا کہ ٹیگور اور سبھاش چندر بوس کی وراثت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وراثت میں فرقہ پرستی ، نفرت اور مذہبی تفریق کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ شہریت ترمیمی ایکٹ جیسے قوانین ملک میں نفرت اور عصبیت پھیلانے والے ہیں ۔

اس سے قبل جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا قاری محمد سید عثمان منصور پوری نے کہا کہ مرکزی حکومت کی وجہ سے کروڑوں افراد اپنے روزگار کو چھوڑ کر سڑکوں پر احتجاج کررہیں آخر اس کا ہرجانہ کون دے گا ۔انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک کی معیشت ڈوب رہی ہے ایسے میں لوگوں کا کام کاج چھوڑ کر احتجاج کی وجہ سے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہاکہ آسام میں این آر سی کی وجہ سے لوگوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کا اندازہ ہمیں ہے ۔

جمعیۃ علماء ہند نے لاکھوں افراد کو کاغذات فراہم کرنے میں مدد کی اس کے باوجود 19لاکھ افراد این آر سی میں شامل ہونے سے رہ گئے ۔انہوں نے کہا کہ آسام میں این آر سی نافذ کییے جانے کی وجوہات تھیں مگر پورے ملک میں این آر سی کو نافذ کرنے کا جواز سمجھ سے بالاتر ہے ۔اور پھراس پورے مسئلے کو مذہبی بنانے کےلئے شہریت ترمیمی ایکٹ لایا گیا جس میں مسلمانوں کو چھوڑ کر تمام لوگوں کو ہندوستانی شہریت دینے کی بات کہی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سب مذہبی تفرق کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے اور آئین کی پاسداری کا حلف اٹھانے والوں نے پارلیمنٹ میں دستور کی دھجی اُڑائی ہے۔

قاری سید عثمان منصور پوری نے کہا کہ مودی جی این آر سی پر کچھ بول رہے ہیں اور وزیر داخلہ کچھ مودی جی کو امیت شاہ سے پوچھنا چاہییے جب ملک بھر میں این آر سی نافذ کرنے کی بات حکومتی سطح پر نہیں ہوئی ہے تو پھر وہ ملک بھر میں گھو م گھوم کر این آر سی نافذ کرنے کا براملااعلان کیوں کیا تھا۔قاری عثمان منصور پوری نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ ملک کے دستور کی حفاظت کیلئےہماری ماں اور بہنیں اپنی خدمات پیش کررہی ہیں ۔

اس سے قبل ریاستی جمعۃ علما ہند کے صدراور ممتا بنرجی کی کابینہ کے رکن مولانا صدیق اللہ نے کہا کہ بنگال جمعیۃ ریاست گیر سطح پر اس قانون کے خلاف مہم چلارہی ہے اور شاہ لاکھ بول رہے ہیں کہ قانون کو واپس نہیں لیاجائے مگر ان کے بولنے سے کچھ نہیں ہوگا ۔یہ قانون بہر صورت واپس لینا ہی ہوگا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading