ناندیڑ: 20جنوری( ورق تازہ نیوز)ناندیڑ شہر کے آیورویدک کالج کیمپس میں قائم آیورویدک اور یونانی فارمیسی گزشتہ پانچ سالوں سے بند ہیں۔دواوں کی پیدوار رُکی ہوئی ہے اس کے باوجود ریاستی حکومت نے عمارت کی تزئین نو کےلئے 30 لاکھ روپے کی رقم منظور کی ہے ۔ اس فیصلے پرسیاسی اورسرکاری حلقوں میںکافی تعجب کیاجارہا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ریاستی حکومت اس یونانی ورآیورویدک فارمیسی میںدواو¿ں کی دوبارہ تیاری کے لئے کوئی فیصلہ کرتی اور اس کام کےلئے موٹی رقم منظور کرتی ۔ موجودہ دو ر میں ایلوپیتھی دواو¿ں سے عام لوگ تنگ آچکے ہیں ۔ ایک تویہ دوائیں کافی مہنگی ہیں ۔ اس کے مریض پر ردعمل بھی ہوتے ہیں اور بعض مرتبہ تو دوائیں کوئی اثر نہیں کرتی ہیں ۔ جبکہ آیورویدک اور یونانی دوائیں کافی سستی ہوتی ہیں اوراس سے پائیدار علاج کیاجاسکتا ہے ۔
ناندیڑ فارمیسی میں ایک زمانہ میں بڑی مقدار میں دوائیں تیار ہوتی تھیں جو سارے ملک میںسپلائی کی جاتی تھیں۔ ناندیڑ کی فارمیسی نظام کے دور میں قائم کی گئی تھی۔ لیکن چندسالوںسے حکومت نے دواو¿ں کی تیاری میںدرکار خام اشیاءکی خریدی بند کردی ہے ۔ اس خریدی کےلئے ٹینڈرکال کئے جاتے ہیں جواب کال نہیں کئے جارہے ہیں ،معتبرذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق فارمیسی میں 40لاکھ سے زائد رقم کی دوائیں دھول کھارہی ہیں ۔ ادارہ میں 110 ملازمین برسرخدمت تھے لیکن کام نہ ہونے کی وجہ سے ان ملازمین کودیگر دفاتر میں منتقل کیاگیا ہے ۔ فارمیسی کےلئے درکار جڑی بوٹیوں کی پیداوار کےلئے حکومت 40 ہیکٹرزمین خریدی تھی جس میں تقریبا 200جڑی بوٹیونن کی کاشت کی جاتی تھی لیکن اب یہ زمین بھی بنجر پڑی ہوئی ہے کوئی کاشت نہیں ہورہی ہے ۔فارمیسی کی بلڈئنگ میںدوائیں تیار کرنے والی قیمتی مشین بھی دھول کھارہی ہے ۔اس طرح یہ نقصان علاحدہ ہورہا ہے ۔ کچھ تنظیموں اور افراد نے فارمیسی کودوبارہ کارگربنانے کےلئے حکومت سے کئی بار نمائندگی کی لیکن نتیجہ صفر رہا ہے۔