نربھیا اجتماعی عصمت دری اور قتل معاملے میں چاروں قصواروں کے لیے پھانسی کی سزا 20 مارچ مقرر ہے، لیکن اب بھی پھانسی سے بچنے کی قصورواروں کی کوششیں جاری ہیں۔ پہلے ہی تین مرتبہ پھانسی کی تاریخ ملتوی ہو چکی ہے اور اب ایک مجرم ونے شرما نے اپنی دفاع کے لیے نیا قدم اٹھایا ہے۔ ونے نے سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے کے لیے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کے پاس عرضی داخل کی ہے۔ اس کے وکیل اے پی سنگھ نے تعزیرات ہند کی دفعہ 432 اور 433 کے تحت عرضی داخل کی ہے۔
2012 दिल्ली गैंगरेप मामला: दोषी विनय शर्मा ने अपने वकील ए.पी. सिंह के माध्यम से दिल्ली एल.जी. से मौत की सज़ा को उम्रकैद में बदलने की मांग की।वकील ए.पी. सिंह ने Cr.P.C की धारा 432, 433 के तहत मौत की सज़ा निलंबित करने के लिए एक याचिका दायर की है।
— ANI_HindiNews (@AHindinews) March 9, 2020
اس سے قبل دوسرے مجرم مکیش سنگھ نے گزشتہ جمعہ یعنی 6 مارچ کو سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کر اپنے قانون تراکیب بحال کرنے کی گزارش کی تھی۔ قصوروار کا الزام ہے کہ اس کے وکیل نے اسے گمراہ کیا تھا۔ وکیل منوہر لال شرما کے ذریعہ سے داخل عرضی میں مکیش سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ مرکز، دہلی حکومت اور نیائے متر کا کردار نبھانے والی وکیل ورندا گروور نے ’مجرمانہ سازش‘ رچی اور ’دھوکہ‘ کیا ہے جس کی سی بی آئی سے جانچ کرائی جانی چاہیے۔
غور طلب ہے کہ دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے نربھیا اجتماعی عصمت دری اور قتل معاملے میں چاروں قصورواروں کی پھانسی تین مرتبہ ملتوی کرنے کے بعد 20 مارچ کی نئی تاریخ مقرر کی ہے۔ قصورواروں کو 2013 میں پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد اس معاملے نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ ایڈیشنل سیشن جج دھرمیندر رانا نے ہدایت دی ہے کہ مکیش کمار سنگھ، پون گپتا، ونے شرما اور اکشے کمار سنگھ کو 20 مارچ کی صبح ساڑھے پانچ بجے موت ہونے تک پھانسی پر لٹکایا جائے۔ معاملے کے سبھی قصورواروں کو تہاڑ جیل میں ایک ساتھ پھانسی دی جانی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو