نذرانہ عقیدت بہ حضور شہنشاہ ِدین، سلطان  المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین محمد اولیائؒ محبوب الہی دہلویؒ

از : عبدالملک نظامی ناندیڑ

سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین محمد اولیائمحبوب الہی دہلویؒ جنہیں پیار سے لوگ ” سلطان جی” پکارتے ہیں۔ہندوستان میں صوفیوں کے چشتیہ سلسلے کے چوتھے بڑے بزرگ ہیں۔ پہلے بزرگ حضرت خواجہ ؒ خواجگان سید معین الدین حسن چشتی اجمیریؒ ہیں۔ دوسرے ان کے جانشین حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی دہلوی اور تیسرے قطب صاحبؒ جانشین شیخ شیوخ العالم حضرت خواجہ بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ( پاک پٹن۔ پاکستان ) جنھوں نے حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہی دہلویؒ کو اپنا جانشین بنایا۔ حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ وہ بزرگ ہیں جن کا پنجابی کلام سکھ گورو صاحبان نے اپنی مذہبی مقدس کتاب شری گورو گرنتھ میں درج کیا۔خانوادہ¿چشت میں ہر ولی اپنی جگہ بے مثال رہا ہے لیکن حضرت محبوب الہیؒ کی شخصیت ایسی دل آویز تھی کہ ” بسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری ” یعنی میں نے بےشمار محبوب دیکھے لیکن تمہاری بات ہی کچھ اور ہے۔ حضرت محبوب الہیؒ کا فیض سینوں کے ساتھ ساتھ سفینوں کے ذریعے بھی منتقل ہوا۔ جس کی وجہ سے آپ کا فیض اور عرفان عالم گیر ہوگیا ہے۔حضرت محبوب الہیؒپنی ذات سے واقعی اسم با مسمی نظام الدین تھے اور ان کی ہر چیز میں اس قدر نظم و ضبط ہے کہ حضور رسالت مآب صلیاللہ علیہ و آلہ وسلم کے چھ سو برس بعد اگر کوئی شخص اسوہ¿ نبوی کا ایک کامل و مکمل نمونہ دیکھنا چاہے تو اس کی نظر ہر پھر کر حضرت محبوب الہیؒ کی ذات والا صفات ہی پر آکر رکے گی۔

حضرت محبوب الہیؒکی ولادت با سعادت صفر کی آخری بدھ کو اتر پردیس کے مشہور شہر بدایوں میں ہوئی۔پیدائش کے سن میں اختلاف ہے کوئی 634 ہجری کہتا ہے کوئی636 ہجری۔ حضرت محبوب الہیؒ کی والدہ محترمہ حضرت سیدہ بی بی زلیخااور والد محترم حضرت سید احمدؒ دونوں بڑے نیک اور خدا رسیدہ بزرگ تھے۔ ان کو اللہ تعالی نے دو بچے عنایت کیے تھے۔ ایک سید محمد جو بعد میں سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین محمد اولیائؒ محبوب الٰہی کے نام سے مشہور ہوئے۔اور دوسری صاحبزادی حضرت سیدہ بی بی زینب۔ یہ دونوں بچے ابھی کم عمر تھے کہ والدہ ماجدہ نے خواب میں دیکھا کہ کوئی پوچھ رہا ہے بیٹا چاہتی ہو یا شوہر؟ ان کے منہ سے بے اختیار نکل گیا بیٹا ! نیند سے بیدار ہوئیں تو افسوس کرنے لگیں کہ میں نے بیٹے کے بجائے شوہر کیوں نہ کہا ! مگر پھر اس خیال سے دل کو تسلّی دے لی کہ خواب کی باتیں اپنے اختیار کو تھوڑی ہوتی ہیں۔ اس واقعے کے بعد خدا کا کرنا یہ ہوا کہ حضرت سید احمدؒ جنت سدھار گئے۔ اگرچہ حضرت سیدہ بی بی زلیخا کے میکے والے خوش حال تھے۔ لیکن یہ ایسی غیرت مند خاتون تھیں کہ انہوں نے میکے والوں سے امداد لینی پسند نہیں کی اور خود محنت مشقت کرکے اپنے یتیم بچوں کی پرورش کرنے لگیں۔وہ سوت کاتا کرتی تھیں اور لونڈی اس کو بازار میں جاکر بیچ آتی تھی۔ گزر بسر ہوجاتی تھی۔ مگر ایسی تنگی ترشی سے کہ بیوہ ماں اور بن باپ کے بچوں کو کئی کئی وقت کے فاقے کرنے پڑتے تھے۔ تاہم اس صابر خاتون کی پیشانی پر بل نہ آتا تھا۔ اور بچے بھی ماں کے ساتھ راضی بہ رضا رہتے تھے۔

جس دن حضرت کے ہاں فاقہ ہوتا تھا۔ ماں بچوں سے کہتی تھیں کہ آج ہم اللہ میاں کے مہمان ہیں ! بچے سمجھ جاتے تھے کہ آج گھر میں کھانے کےلیے کنہیں ہے۔اور روٹی کی ضد کرنے کے بجائے بھوکے پیٹ ہی خوش رہتے تھے۔ حضرت محبوب الہٰیؒ فرماتے ہیں کہ ” مجھے بچپن میں خدا کی مہمانی کا اتنا شوق ہوگیا تھا کہ جب کئی وقت تک ہم کو کھانا ملتا رہتا تھا تو میں والدہ سے پوچھا کرتا ک ہم اللہ میاں کے مہمان کب بنیں گے؟ "

حضرت محبوب الہٰیؒ کی ابتدائی تعلیم بدایوں میں ہوئی۔اور اعلی علوم دلّی میں آکر حاصل کئے۔پورے تعلیمی دور میں حضرت اپنی ذہانت اور نیکی کی وجہ سے نمایاں رہے۔استاد ان کی اس قدر عزت کرتے تھے کہ خاص اپنی گدّی پر بٹھاتے۔ اور حضرت کی غیر حاضری ان پر شاق گزرتی۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد والدہ ماجدہ کے حکم پر حضرت اس زمانے کے ایک مشہور بزرگ حضرت شیخ نجیب الدین متوکلؒ کے پاس حاضر ہوئے تاک ان کی سفارش سے کہیں کے قاضی مقرر ہوجائیں ( اس زمانے میں قاضی آج کل کی طرح صرف نکاح نہیں پڑھایا کرتا تھا۔ بلکہ مجسٹریٹ ، جج اور علاقہ افسر کے فرائض بھی انجام دیا کرتا ) لیکن اپنی خاندانی شرافت اور شائستگی اور خوش مذاقی کے باعث حضرت نے شیخ متوکلؒ سے سفارش کی درخواست نہیں کی بلکہ یہ کہا کہ ” آپ میرے واسطے دعا فرمائیں ک میں کہیں کا قاضی مقرر ہو جاو¿ں ” حضرت شیخ متوکلؒنے ان کو غور سے دیکھا تو کہا کہ ” بابا! قاضی مشو، چیزے دیگر شو ” یعنی میاں قاضی نہ بنو۔ کچھ اور بنو۔

حضرت شیخ متوکلؒ نے حضرت محبوب الہیؒ کو اپنے بڑے بھائی حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒکے پاس مرید ہونے کےلیے اجودھن( موجودہ پاک پٹن ضلع ساہیوال پاکستان ) بھیج دیا۔ حضرت بابا صاحبؒسے حضرت محبوب الہیؒ کو بچپن ہی سے محبت تھی اور وہ مکتب میں ان کا ذکر سن کر غائبانہ معتقد ہوگئے تھے۔ لہذا حضرت شیخ متوکلؒ کا مشورہ ان کو دل سے پسند آیا اور تقدیر محبت نے آخر کار ان کو بارگاہ فریدی میں پہنچا ہی دیا۔ اس وقت حضرت بابا صاحبؒ کا ضعیفی کا زمانہ تھا اور حضرت محبوب الہی? بالکل نو عمر تھے۔حضرت بابا صاحبؒ ان کے ساتھ بڑے اعزاز سے پیش آئے اور یہ شعر پڑھا
اے آتش فراقت دلہا کباب کردہ
سیلاب اشتیاقت جانہا خراب کردہ
یعنی تیری جدائی کی آگ نے دلوں کو کباب کر رکھا ہے اور تیرے اشتیاق کے سیلاب نے جانوں کو خراب کر رکھا ہے۔
حضرت بابا صاحبؒ جیسے جاہ و جلال کا بزرگ ایک اجنبی نوجوان کےلیے یہ شعر پڑھے تو ظاہر ہے کہ نوجوان کا کیا حال ہوگا۔ حضرت سہم کر دم بخود رہ گئے۔مگر جذبات اور عقیدت کے جوش میں اتنی بات ضرور زبان سے نکلی ک ” آپ کی قدم بوسی کا بڑا اشتیاق تھا ” حضرت بابا صاحبؒ نے ان کی کیفیت کو محسوس فرمالیا اور دل جوئی کے طور پر فرمایا ” نووارد پر اسی طرح خوف طاری ہوا کرتا ہے ” حضرت محبوب الہیؒ ظاہری علوم کی تمام تر تکمیل کر چکے تھے۔ لیکن حضرت بابا صاحبؒ نے ان کو پھر سے سبقاً سبقاً کچھ چیزیں پڑھائیں۔ اور ہاتھ پکڑ کر مدینتہ العلوم( آنحضرت ؒ کی ایک حدیث ” میں علم کا شہر ہوں اور علیرضی اللہ عنہ اس کا دروازہ ہیں ) کے اس دروازے میں داخل کردیا جس کی اجازت اور سند کو بطور خاص حضرت علی کرم وجہہ اور حضور رسالت مآ بسے پہنچ چکی تھی۔
تکمیل سلوک کے بعد حضرت بابا صاحبؒ نے حضرت محبوب الہیؒ کو خلافت دے کر دارالسلطنت دلّی میں مامور فرما دیا اور حکم دیا کہ دلّی جاتے وقت ہانسی میں میرے بڑے خلیفہ حضرت شیخ جمال الدین ہانسویؒ سے اس خلافت نامہ کی تصدیق کراتے جانا۔ چنانچہ حضرت محبوب الہیؒ تعمیل حکم میں ہانسی حاضر ہوئے اور حضرت جمالؒنے یہ خوبصورت حقیقت لکھ کر ان کے خلافت نامہ کی تصدیق کی کہ
خدائے جہاں را ہزاراں سپاس
کہ گوہر سپردہ بہ گوہر شناس
یعنی خدا کا ہزار ہزار شکر ہے کہ موتی اس کو سونپا گیا ہے جو موتی کو خوب پہچانتا ہے۔ اس کے بعد حضرت محبوب الٰہیؒ دلّی پہنچے۔ حضرت اپنے مزاج اور افتادہ طبع کے لحاظ سے دنیاداری اور میل جول کو پسند نہیں کرتے تھے اور تنہائی اور گمنامی کے خواہش مند تھے۔ مگر ان کو تو غار حرا سے نکل فاران کی چوٹیوں پر منادی کرنے والے کے سجادے پر بٹھایا گیا تھا۔ گوشہ نشین کیسے رہ سکتے تھے۔ دن بدن ان کے اطراف پروانے جمع ہونے لگے۔ شروع شروع میں حضرت محبوب الہیؒ اس سے پریشان ہوئے مگر ایک روز کوئی مرد غیب حاضر خدمت ہو کر کہنے لگا کہ ” جس روز تم چاند بنے تھے یہ نہیں جانتے تھے کہ سارے زمانے کی انگلیاں تم پر ا±ٹھیں گی۔ اب تو خلقت تمہاری زلف گرہ گیر کی اسیر ہوگءہے۔ اس لیے کونے میں بیٹھنے سے کام نہیں چلے گا ! ” اس کے بعد اس نے کہا کہ ” اوّل تو آدمی کو مشہور نہیں ہونا چاہیے اور اگر مشہور ہوا تو ایسا مشہور ہو کہ قیامت کے دن اسے حضور محمد کے سامنے شرمندگی نہ ہو ”
حضرت محبوب الہٰیؒ نے یہ بات سن کر اس کا ایسا حق ادا کیا کہ بای د و شائد مخلوق کا ہجوم ان کے گرد دن بدن بڑھتا جاتا تھا۔دین و دنیا کے خواہش مندوں، دکھیوں اور لاچاروں کی ایک بھیڑ حضرت محبوب الہی? کے اطراف رہتی تھی۔ حضرت محبوب الہیؒ کی شہرت کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ مگر ابتدائی رجحان کے برعکس حضرت محبوب الہی? روز بروز ان کی طرف م±لتفت ہوتے چلے گئے۔اور ان کا دروازہ ہر کس و نا کس کےلیے ک±ھلا رہا۔ مگر اس شان سے کہ حضرت محبوب الہیؒ کے دسترخوان پر ہزاروں آدمیوں کو کھانا کھلایا جاتا تھا۔ بےشمار مخلوق کو کپڑے لتّے اور دوسری ضروریات عطا ہوتی تھیں۔ درس و تدریس اور تعلیم و تربیت کے سلسلے میں علیحدہ ایک کثیر جماعت کا بوجھ حضرت محبوب الہیؒ کے ذمّے تھا۔ صبح سے شام تک بے حساب دولت حضرت کے خدموں پر نچھاور کی جاتی تھی۔ مگر حضرت محبوب الہیؒ کی اپنی ذات پر اس میں سے بس اتنا خرچ ہوتا تھا کہ موٹا جھوٹا پہنتے، دن کو روزہ رکھتے ( سال بھر روزہ رکھتے سوائے ایام حرمت کے ) اور شام کو جو? کی ایک روٹی اور ساگ پات سے افطار کرتے، لوگ کچھ اور تناول کرنے کی درخواست کرتے تو آبدیدہ ہوکر فرماتے ” اسی دلّی شہر میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جو صبح بھوکے پیٹ ا±ٹھتے ہیں اور شام کو بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ میں ان کی موجودگی میں کچھ اور کیسے کھا سکتا ہوں۔”

حضرت محبوب الہیؒکے ہاتھ پر بےشمار مخلوق توبہ کرتی تھی آور مرید ہوتی تھی۔آپ کے ایک مرید اور تاریخ فیروز شاہی کے مشہور مصنف مولانا ضیاء الدین برنیؒ کے دل میں خطرہ گزرنے لگا کہ حضرت سے پہلے جو پیران سلسلہ ہوئے ہیں وہ تو ہر ایک کو مرید نہیں کیا کرتے تھے پھر حضرت اپنے پیروں کے طریقے کے خلاف کیوں چلتے ہیں اور ہر ایک کو مرید کیوں کرلیتے ہیں جبکہ مرید ہونے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ انہیں حضرت سے تعلیم و تربیت حاصل کرنے کا پورا موقع بھی نہیں ملتا۔ آپ نے اپنے نور باطن سے اسے محسوس کیا اور فرمایا کہ ” ہر زمانے کے تقاضے الگ ہوتے ہیں اور تقاضوں کے مطابق ہی عمل کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے رسول کے فوراً بعد کا جو زمانہ تھا، اس میں لوگ عام طور پر روزے نماز وغیرہ فرائض کے پابند تھے اور بڑے بڑے گناہوں سے بچا کر تے تھے۔ اس وقت ضرورت صرف اس کی ہوتی تھی کہ جس کسی میں مزید روحانی ترقی کرنے کی صلاحیت ہو اس کو ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھایا جاتا۔چنانچہ ہمارے بزرگ صلاحیت دیکھ کر مرید کیا کرتے تھے اور آج کل کی حالت یہ ہے کہ لوگوں نے نماز روزے جیسے فرائض کو بھی چھوڑ دیا ہے اور بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا ہیں اور میں معتبر لوگوں سے سنتا ہوں کہ جو شخص میرا مرید ہوجاتا ہے وہ کم از کم فرائض کی پابندی کرنے لگتا ہے اور بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتا ہے۔ پس اگر میں ان لوگوں کو مرید نہ کروں تو یہ نیکیاں جو ان سے عمل میں آرہی ہیں ان بھی وہ رہ جائیں گے۔ اس کے علاوہ ہر ایک کو مرید کرلینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک دفعہ میں اپنے پیر حضرت بابا فرید الدین شکر گنج شکرؒ کی خدمت میں حاضر تھا اور حضرت کی ہدایت کے موافق ضرورت مندوں کو تعویذ تقسیم کر رہا تھا۔ اور ہجوم سے پریشان تھا کہ حضرت بابا صاحب? نے فرمایا ” تم ابھی سے گبھرا رہے ہو۔ تمہارے پاس تو بہت مخلوق آیا کرے گی ” مگر میں نے ان کے قدموں میں سر رکھ دیا اور عرض کی کہ مخدوم جانتے ہیں کہ مجھے پیر بننے اور شہرت کی کچھ خواہش نہیں ہے۔مجھے تو بس مخدوم کی خدمت اور محبت بہت کافی ہے۔ یہ سن کر حضرت بابا صاحبؒ پر ایک کیفیت طاری ہو گی اور انہوں نے جذبے کی حالت میں فرمایا ” دیکھو نظام ! یہ تو میں نہیں جانتا کہ قیامت کے دن مسعود بندے کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔لیکن میں آج تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر میری وہاں پ±رسش ہوئی تو اس وقت تک جنت میں قدم نہ رکھوں گا جب تک تمہارے مریدوں کو ساتھ نہ لے لوں گا۔”
لہذا جب مجھ سے ایک ایسے بزرگ نے جن کی خدا رسیدگی اور مقبولیت کا یقین ہے۔ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ تمہارے سلسلے والوں کو ساتھ لئے بغیر جنت میں نہیں جاو¿ں گا تو میں مخلوق کو کیوں محروم رکھوں !
آپ کی ولادت سے وفات تک دہلی کے تخت پر چودہ(14) بادشاہوں نے حکومت کی۔ آپ کے دہلی تشریف لانے کے بعد گیارہ(11) بادشاہ تخت نشین ہونے۔ ان میں کم از کم تین بادشاہ حضرت محبوب الہیؒ کے معتقد بھی تھے مگر آپ نے کبھی دربار کا ر±خ نہیں کیا، نہ کوئی جاگیر قبول کی، نہ وظیفہ اور منصب لیا لیکن بالواسطہ طور پر آپ بادشاہوں کی اصلاح سے غافل بھی نہیں رہے۔ بادشاہوں کی ک±نجی ان کے مصاحب اور درباری ا±مراء ہوتے ہیں۔ حضرت محبوب الہیؒنے چند ہی برسوں میں معاشرہ پر اتنا گہرا اثر ڈالا تھا کہ ا±مراءکے مزاج بھی درویشانہ ہوگئے تھے۔
سلطان غیاث الدین تغلق حضرت محبوب الہیؒ سے بغض رکھتا تھا۔ا±سی نے سماع کے متعلق دربار میں مناظرہ کروایا تھا جس میں حضرت محبوب الٰہیؒ نے شرکت فرمائی تھی۔ اس مناظرہ میں بادشاہ اور اس کے سرکاری مولوی ہار گئے۔ بادشاہ نے بنگال کی مہم سے واپسی پر ایک جلاوطنی کا فرمان حضرت محبوب الہیؒ کو روانہ کیا اور کہا کہ میرے دہلی آنے سے پہلے آپ دہلی چھوڑ دیں۔ حضرت محبوب الہیؒ نے اس فرمان پر ایک تاریخی فقرہ لکھ کر واپس کردیا جو آج تک ضرب المثل ہے کہ ” ہنوز دلّی دوراست ” یعنی ابھی تو دلّی بہت دور ہے۔ بادشاہ دلّی پہنچنے سے پہلے ہی افغان پور کے محل کے نیچے دب کر مرگیا اور اس کو دلّی آنا نصیب نہیں ہوا۔ اس کا بیٹا جونا خان بادشاہ ہوا جو تاریخ میں محمد بن تغلق کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ حضرت محبوب الہیؒ کا بڑا معتقد تھا۔ حضرت محبوب الہیؒ کے جنازے میں شریک ہوا اور حضرت کے مزار مبارک پر پہلا گنبد اسی نے بنوایا تھا۔
تقریبا نوّے (90) سال کی عمر میں حضرت محبوب الہیؒ نے وصال فرمایا۔ چالیس دن پہلے سے کھانا پینا چھوڑ رکھا تھا اور ایک استغراق طاری تھا۔ حضرت خواجہ رکن الدین ابو الفتح م±لتانیؒ حاضر ہوکر بولے کہ ” ہم نے بزرگوں سے سنا ہے کہ اللہ تعالی اپنے دوستوں کو زندگی اور موت کا اختیار دیتا ہے کہ وہ جب تک چاہیں دنیا میں رہیں اور جب چاہیں موت کو قبول کرلیں۔آپ سے بڑی مخلوق فیض پا رہی ہے اس لئے میں درخواست کرتا ہوں کہ آپ اللہ تعالی سے کچھ دن اور زندہ رہنے کی دعا فرمائیں ” حضرت محبوب الہیؒ یہ سن کر آبدیدہ ہوگئے اور فرمایا کہ میں یہاں کیسے رہ سکتا ہوں میں نے تو ابھی خواب میں دیکھا کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں ” نظام ! ہم کو تمہارا بڑا اشتیاق ہے "سبحان ? حضرت محبوب الہیؒ بارگاہ رسالت مآب میں اس س±رخ روئی سے گئے کہ شہرت کی شرمندگی کا تو ذکر کیا خود رسالت مآب اپنے فرزند کی پذیرائی کے مشتاق تھے۔
18 ربیع الثانی 725 ہجری کی صبح طلوع آفتاب کے بعد حضرت محبوب الہیؒکا وصال ہوا۔شہنشاہ دین = 725 سے حضرت محبوب الٰہیؒ کی تاریخ وصال نکلتی ہے۔
شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال نے بارگاہ محبوب الہیؒ میں "التجائے مسافر ” کے عنوان سے نذرانہ پیش کیا ہے اس کے………..

چند اشعار۔۔۔۔

فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرا
بڑی جناب تری، فیض عام ہے تیرا
ستارے عشق کے تیری کشش سے ہیں قائم
نظام مہر کی صورت نظام ہے تیرا
تری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کی
مسیح و خضر سے اونچا مقام ہے تیرا
نہاں ہے تیری محبت میں رنگ محبوبی
بڑی شان، بڑا احترام ہے تیرا

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading