ناندیڑ:2 ڈسمبر (ورق تازہ نیوز) مذہبی مقام سے لاﺅڈ اسپیکر کی آواز سے عوام اور مریضوں کوتکلیف ہورہی ہے ان لاوڈاسپیکر کو فی الفور بند کرنے کامطالبہ وشوہندو پریشد اوربجرنگ دل کی جانب سے ضلع کلکٹر اور ضلع ایس پی کودئے میمورنڈم میں کیاگیا ہے۔
ملک میں کئی سالوں سے لاوڈاسپیکر بحث کا موضوع بنا ہو ا ہے ۔میمورنڈم میں کہاگیا ہے کہ کچھ مذہبی مقامات سے کافی زیادہ زوردار آوازیں آرہی ہیں ۔ حالانکہ انھیں کوئی اجازت نہیں ہے جس کی وجہہ سے عوام کو تکلیف ہورہی ہے ۔
فی الحال کوویڈ19 کی وباءپھیلی ہوئی ہے کئی افراد اسپتال میں زیرعلاج اور کچھ مریض گھروں میں علاج کروارہے ہیں ۔ معمر افراد کو لاوڈ اسپیکر کی آواز بہت پریشانی کاسامنا کرناپڑرہاہے۔
میمورنڈم پروشوہندو پریشدکے ششی کانت پاٹل‘گنیش کوکلوار ‘ پریمانند شندے ‘کرشن انگڑے‘ گورو ‘سچین کلتھے ‘ اکشے پاٹل بھوئیر‘پرشانت شیوالے کے دستخط ہے ۔
آخر میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر اندرون پندرہ یوم کاروائی نہیں کی گئی تو بالآخر زنجیری ہڑتال پربیٹھنا پڑے گا۔یادرہے کہ ویچ ایچ پی اور بجرنگ دل ہمیشہ سے مساجدکے لاوڈاسپیکر کوبند کرنے کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں اور ناندیڑضلع انتظامیہ سے بھی اسی ضمن میں مطالبہ کیاگیاہے مگر میمورنڈم میں یہ واضح طور پر نہیں لکھا گیا کہ مساجد کے لاوڈ اسپیکر بند کئے جائیں۔