ممبئی: شیوسینا کے ممبر پارلیمنٹ سنجے راوت نے پیر کے روز کہا کہ پہلے نتیش کمار کی زیرقیادت بہار حکومت کو لوجہاد کے خلاف قانون لانے دیں ، اس کے بعد مہاراشٹرا حکومت اس پر غور کرے گی۔ راوت نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ مہاراشٹر میں بی جے پی کے کچھ سینئر نیتا لو جہاد کے خلاف قانون کا مطالبہ کررہے ہیں۔ راوت نے کہا کہ شاید بی جے پی مغربی بنگال میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر یہ مسئلہ اٹھا رہی ہے۔
سی ایم ادھو ٹھاکرے سے کی اس بارے میں بات
راجیہ سبھا ممبر نے کہا کہ مہاراشٹر کے بی جے پی کے کچھ سرکردہ رہنما یہ پوچھ رہے ہیں کہ(ریاست میں) کب لو جہاد کے خلاف کوئی قانون بنایا جائے گا۔ میں نے آج صبح وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے سے بات کی۔ شیوسینا کے چیف ترجمان نے کہا ، اس مسئلے پر ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پہلے(بی جے پی زیر اقتدار ) اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں قانون بننے دیں۔ لیکن ، جب بہار میں قانون بنایا جائے گا ، جب نتیش کمار جی اس کو بنائیں گے ، اس کے بعد ہم اس پر مہاراشٹر میں غور کریں گے۔
ملک میں ہو ر ے لو جہاد کے واقعات: فڈنویس
غور طلب ہے کہ بی جے پی رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ملک میں لو جہاد کے واقعات رونما ہورہے ہیں اور ایسے میں قانون بنانا مناسب ہے۔ بی جے پی کے زیر اقتدار کچھ ریاستوں نے اس نام نہاد لو جہاد کو روکنے کے اپنے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔