نبی کریم ﷺکی شان میں گستاخی کا معاملہ, ناندیڑ کانگریس کی خاموشی معنی خیز !

ناندیڑ:19/ اگست ۔ (نقی شاداب)گزشتہ دنوں ناسک ضلع کے ایک دیہات میں مبینہ مٹھ کے مہاراج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بڑی گستاخی کی جس کے بعد سارے مہاراشٹر بھر میں اس گستاخ کے خلاف شدید برہمی پائی جاتی ہے اور مختلف سماجی و سیاسی تنظیموں کی جانب سے اس مبینہ مہاراج کے خلاف مختلف پولیس اسٹیشنوں میں دو سماج میں تناؤ پیدا کرنے کے تحت ایف آئی آر درج کیے گئے ہیں۔

لیکن ناندیڑ شہر جو کانگریس کا گڑھ ہے اور یہاں سے رکن پارلیمنٹ وسنت چوہان کانگرس کی ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں جبکہ ضلع میں کانگریس کے کئی ارکان اسمبلی بھی ہیں اور ناندیڑ شہر حلقے جنوب سے کانگریس کے متحرک اور ہر سماج کو ساتھ لے کر چلنے والے ایم ایل اے جناب موہن انا ہمبرڈے بھی مختلف سماجی و سیاسی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں لیکن اب تک ناندیڑ میں کانگریس کی جانب سے اس گستاخ مہاراج کے خلاف احتجاج یا قانونی کاروائی کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے جس پر مسلمانوں میں کانگریس کی اس معنی خیز خاموشی پر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔

ہر مرتبہ جب بھی ملک میں اس طرح کے گستاخانہ واقعات رونما ہوتے ہیں کانگریس پارٹی کے مسلم لیڈران پر مبنی ایک وفد ضلع انتظامیہ سے میمورنڈم کے ذریعہ کاروائی کرنے کا مطالبہ کرتا ہے لیکن کانگرس کے اعلیٰ قائدین یا رکن پارلیمنٹ،ارکان اسمبلی وفد میں نظر نہیں آتے ہیں۔جس سے مسلم سماج میں ان لیڈران کے تئیں کئی سوال اٹھائے جاتے ہیں۔

حالیہ لوک سبھا انتخابات میں ناندیڑ کے علاوہ مہاراشٹر بھر میں مسلمانوں نے کانگریس کے حق میں زبردست ووٹنگ کی تھی جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر کانگریس کے ارکان پارلیمان منتخب ہوئے ہیں اور اب چند ماہ بعد اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں جس میں بھی کانگریس پارٹی کے اعلی قائدین کو امید ہے کہ مسلمان انہیں پھر ایک بار ایک گٹھا شکل میں ووٹ دیں گے ۔

مگر کانگریس کے اعلی قائدین کو یہ بات بھی ضرور سوچنی چاہیے کہ وہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے افراد کے خلاف کاروائی کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے کو بھی ترجیح دیں۔

جب کبھی اس طرح کے مذہبی معاملات کی بات آتی ہے تو کانگریس کے اعلیٰ قائدین اور ناندیڑ کے مقامی قائدین ہر مرتبہ اپنی پارٹی کے مسلم لیڈران کو اگے بڑھا کر میمورنڈم دینے کی کاروائی کی خانہ پوری کا عمل مکمل کرتے ہیں۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی اور دیگر قائدین کے اس طرح کے رویہ سے مسلمانوں میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے اور ہوسکتا ہیکہ اسمبلی انتخابات میں انھیں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading