نانندیڑ:16اگست:(ورقِ تازہ نیوز) 9 اگست کو دوپہر تین بجے ایک شخص پر جان لیوا حملہ کرنے کے معاملے میں گرفتار باپ اور بیٹے کوآج فرسٹ جوڈیشل مجسٹریٹ پی ایس جادھو نے دو دن کی پولیس کسٹڈی میں بھیج دیا ہے۔ سید عمران سید عثمان نے اسپتال سے اپنی شکایت درج کروائی کہ’ اٹھ اگست کو دوپہر کے وقت اپنے دوست کے ساتھ فیمس فنکشن ہال کے قریب تنبولی ہوٹل میں چائے پیتے بیٹھا ہوا تھا
اس وقت وہاں پر ڈرائیور محبوب رسول الیاس نے مجھ سے بقایا ایک ہزار روپے طلب کیے لیکن میں نے اسے کہا کہ ابھی رقم نہیں ہے بعد میں دوں گا“ جس کے بعد ڈائیور رسول نے اسے گالی گلوچ کی اور وہاں سے چلا گیا ۔ 9 اگست کو دو پر تین بجے دوبارہ فریادی تنبولی ہوٹل میں چائے پی رہا تھا اس وقت ڈرائیور رسول نے اسے مار پیٹ کی اور اس کا بیٹا مصدق بھی وہاں پہنچ گیا اور اس نے فریادی کے پیٹ‘ سر اور جسم کے دیگر حصوں پر خنجر سے وار کر کے جان سے مارنے کی کوشش کی۔
اتوارہ پولیس نے اس شکایت پر تعزیرات ہند کی دفعات 307، 323 ،504، 506 اور 34 کے تحت ملزم رسول اور اس کے بیٹے مصدق کے خلاف مقدمہ درج کر دیا ہے ۔پولیس انسپکٹر شیخ اسد اس معاملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔آج پی ایس ائی اسد نے دونوں ملزمین کو فرسٹ جوڈیشل مجسٹریٹ پی ایس جادھو کے اجلاس میں پیش کیا جہاں پر ملزم شیخ محبوب شیخ رسول عمر 48 سال اور اس کے بیٹے شیخ غازی عرف مصدق شیخ محبوب عمر 22 سال ساکن قدوائی نگر کو دو دن کے لیے پولیس کسٹڈی میں بھیج دیا ہے۔