ناندیڑ:17نومبر ۔(ورقِ تازہ نیوز)ناندیڑضلع میں پولس بھرتی کے دوران تحریری امتحان میں گھوٹالہ ہونے کے بعد پولس بھرتی کو منسوخ کردیاگیاتھا اور تحریری امتحانات کالعدم قرار دئےے گئے تھے ۔ اس کے بعد دوبارہ ناندیڑضلع میں پولس بھرتی کا عمل شروع کیاگیاتھا اورتقررات کے عمل میں شفافیت لائی گئی تھی ۔جن میں 66 پولس ملازمین کاانتخاب عمل میں آیا تھا انھیں موجودہ ایس پی سنجے جادھو نے تقررات کے تحریری احکامات جاری کردئےے ہیں ۔یہ تمام نو منتخب 66 منتخب ملازمین کو جمہ 16نومبر کوپولس ہیڈکوارٹرمیں بلوایا گیا تھا ۔ جاریہ سال کے شروع میں پولس بھرتی ہوئی تھی ۔ 13ہزا سے زائد امیدواروںنے درخواستیں داخل کی تھیں ۔ سابقہ ایس پی چندرکشور میان کی رہنمائی میں یہ پولس بھرتی ہوئی تھی لیکن تحریری امتحان کے جوابی پرچے جانچنے کے بعد پتہ چلا کہ تقریبا سبھی امیدواروں نے سوالات کے ایک جیسے جوابات دئےے ہیںا س کے بعد ایس پی کو شبہہ ہوا کہ یہ بھرتی غلط اور خُرد بُرد کرکے ہوئی ہے ۔چنانچہ انھو ںنے ا س وقت کے تمام تقررات کوکالعدم قرار دیا تھااور نئے سرے سے دوبارہ تحریری امتحانات رکھے گئے تھے اس کے بعد 66 پولس ملازمین کا انتخاب عمل میں آیا ۔ جنہیںرجوع بہ کارہونے کے احکامات جار ی کئے گئے ۔ ان 66 ملازمین میں اوپن زمرے کے 15 ‘ او بی سی 29‘درج فہرست ذات 6‘ درج فہرست جماعت 5‘این ٹی سی 4اور انوکمپا 7 ہیں۔