ناندیڑ، 9 ستمبر: آج کے دور میں ایمانداری ایک نایاب صفت بنتی جارہی ہے، مگر سماج میں اب بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنی کردار کی مضبوطی سے دوسروں کے لیے مثال قائم کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک مثبت اور حوصلہ افزا واقعہ ناندیڑ میں 9 ستمبر کی دوپہر تقریباً 4:30 بجے پیش آیا۔
ٹائیگر آٹو رکشہ سنگھٹنے کے رکن اور فاروق نگر، ناندیڑ کے رہائشی رکشہ ڈرائیور شیخ صوفیان رفیق روزمرہ کی طرح مسافروں کو لے جا رہے تھے۔ انہی کی رکشہ میں بھگوان راؤ ماروت راؤ پتن گے (رہائشی یلگاؤں، تعلقہ کلمنوری، ضلع ہنگولی) سوار تھے۔ بھگوان راؤ نے بتایا کہ ان کا دل کا آپریشن لوتس اسپتال میں ہوا تھا اور وہ دوا لینے ناندیڑ آئے تھے۔
ریلوے اسٹیشن ناندیڑ کے مولانا ابوالکلام آزاد آٹو اسٹینڈ سے نمسکار چوک تک سفر کے دوران، جب وہ نمسکار چوک پر اترے تو انہیں یاد آیا کہ ان کا موبائل رکشہ میں ہی رہ گیا ہے۔ گھبراہٹ میں وہ فوراً ریلوے اسٹیشن پہنچے اور معلومات کی۔ اسی وقت شیخ احمد نے صفیان سے رابطہ کیا تو انہوں نے اطمینان دلایا کہ موبائل ان کی رکشہ میں محفوظ ہے۔
یہ اطلاع فوراً ٹائیگر سنگھٹنے کے پردیش ادھیکش احمد (بابا) کو دی گئی۔ انہوں نے فوراً ٹریفک پولیس انسپکٹر صاحب راؤ گٹے اور وزیرآباد پولیس انسپکٹر پرمیشور قدم کو اطلاع دی۔ بعدازاں مولانا ابوالکلام آزاد رکشہ اسٹینڈ پر ایک مختصر پروگرام میں رکشہ ڈرائیور شیخ صوفیان نے بھگوان راؤ پتن گے کو ان کا 17 ہزار کا قیمتی موبائل واپس کیا۔
اس موقع پر پولیس انسپکٹر صاحب راؤ گٹے، ٹائیگر رکشہ سنگھٹنے کے پردیش ادھیکش احمد (بابا)، تنظیم کے اراکین و عہدیداران جن میں سندیپ راٹھوڑ، شیخ احمد، شیخ اسحاق، ٹھاکر، دوکرے پاٹل، ناصر خان، ساوکار اور دیگر موجود تھے۔👉 یہ واقعہ نہ صرف ایک ایماندار رکشہ ڈرائیور کی دیانت داری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ سماج کے لیے بھی ایک روشن مثال ہے۔