ناندیڑ میں غیر تصدیق شدہ آدھار مراکز کی بھرمار، شہریوں کا کلکٹر سے کاروائی کا مطالبہ،لوٹ مار کا کاروبار عروج پر

ناندیڑ:10/ نومبر (ورق تازہ نیوز) — ناندیڑ شہر میں آدھار کارڈ سے متعلق کاموں کے لیے قائم مختلف مراکز میں بدنظمی اور عوامی شکایات میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی غیر تصدیق شدہ آدھار اپڈیٹ مراکز شہر میں کھلے عام چل رہے ہیں جو نہ صرف عوام سے غیر قانونی طور پر 200 سے 1000 روپے تک وصول کر رہے ہیں بلکہ رقم لینے کے باوجود ان کا کام مکمل نہیں کر پا رہے۔

شہریوں کا مؤقف ہے کہ ان دنوں بڑی تعداد میں لوگ اپنے آدھار کارڈ میں نام، تاریخِ پیدائش، یا دیگر معلومات میں تبدیلی کے لیے مختلف مراکز کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ تاہم، اکثر مقامات پر انہیں یا تو غلط معلومات دی جا رہی ہیں یا ان سے بلا وجہ رقم لے کر انہیں دنوں بعد بھی کوئی نتیجہ نہیں دیا جاتا۔

شہریوں اور طلباء کی جانب سے ضلع کلیکٹر سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ:

1. ناندیڑ شہر کے حدود میں موجود تمام تصدیق شدہ (Authorized) آدھار اپڈیٹ مراکز کی مکمل فہرست فوری طور پر جاری کی جائے۔

2. جن غیر مجاز یا غیر منظور شدہ مراکز سے عوام کو لوٹا جا رہا ہے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

3. فیس کے نام پر غیر ضروری رقم وصول کرنے والے مراکز کی نشاندہی کر کے ان کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔

شہریوں نے کہا کہ اگر تصدیق شدہ مراکز کی فہرست عام کی جائے تو لوگوں کو سہولت ہوگی، ان کا وقت اور پیسہ ضائع نہیں ہوگا، اور انہیں اپنے آدھار کارڈ کی معلومات میں درستگی کی سرکاری سہولت آسانی سے دستیاب ہو سکے گی۔

ذرائع کے مطابق، ناندیڑ ضلع میں اس وقت متعدد نجی مراکز آدھار اپڈیٹ کے نام پر غیر قانونی طور پر سرگرم ہیں، تاہم محکمہ اطلاعات یا ضلع انتظامیہ کی جانب سے ان پر ابھی تک کوئی واضح کارروائی سامنے نہیں آئی ہے۔

شہریوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بعض مقامات پر فری اپڈیٹ اسکیم کے باوجود عوام سے رقم وصول کی جا رہی ہے، جو سراسر غیر قانونی عمل ہے۔عوامی حلقوں نے ضلع کلیکٹر سے اپیل کی ہے کہ وہ جلد از جلد شہر میں موجود تمام آدھار اپڈیٹ مراکز کی جانچ کریں اور تصدیق شدہ مراکز کی تفصیلی فہرست میڈیا اور عوامی نوٹس کے ذریعے جاری کریں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading