ناندیڑ میونسپل کارپوریشن انتخابات 2026: بی جے پی اور مجلس کی شاندار جیت، مسلم نمائندگی میں بھی اضافہ

منتخب مسلم امیدوار (2026)

وارڈ نام جماعت
وارڈ 2 — تروڈا بزرگ آفیا ناز عبدالرشید کانگریس
وارڈ 7 — شراوستی نگر شیخ اومین یمین شیخ رضوان ونچت
وارڈ 11 — حیدر باغ پینل — 4 امیدوار AIMIM
وارڈ 12 — عمر کالونی عبدالغفار کانگریس
وارڈ 12 — عمر کالونی شمیم بیگم کانگریس
وارڈ 12 — عمر کالونی حلیمہ بی شیخ کانگریس
وارڈ 12 — عمر کالونی سید شیر علی کانگریس
وارڈ 13 — چوفالا پینل — 4 امیدوار AIMIM
وارڈ 14 — ہولی پینل — 3 امیدوار AIMIM
وارڈ 14 — ہولی عبدال احمد بابو بھائی کانگریس
وارڈ 15 — اتوارا پینل — 2 امیدوار AIMIM
وارڈ 15 — اتوارا محمد صابر چاؤس NCP
وارڈ 18 — دیگاؤں چاؤل حسین شیخ مظہر کانگریس
وارڈ 18 — دیگاؤں چاؤل موہجبین عبدال فہیم / نفیس کوثر کانگریس
وارڈ 18 — دیگاؤں چاؤل مونسین خان محمود خان کانگریس

انتخابی موازنہ — 2017 بمقابلہ 2026

جماعت 2017 2026 تبدیلی
بی جے پی 06 45 +39
کانگریس 73 12 -61
AIMIM 00 13 +13
ونچت 00 05 +05
شیو سینا 01 04 +03
NCP 00 01 +01
آزاد 01 01 0
کل نشستیں 81 81 —

سیاسی تجزیہ اور حالات

ناندیڑ واگھالا شہر میونسپل کارپوریشن کے نتائج نے شہر کی سیاسی صورتحال کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔ 2026 میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 81 میں سے 45 نشستیں حاصل کرتے ہوئے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی جبکہ کانگریس کو زبردست سیاسی نقصان اٹھانا پڑا۔

مسلم نمائندگی میں اضافہ:

اس بار کارپوریشن میں 25 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے جبکہ 2017 میں یہ تعداد 22 تھی۔ AIMIM نے وارڈ 11 اور 13 میں کلین سویپ کیا جبکہ کانگریس کے زیادہ تر مسلم امیدوار وارڈ 12 اور 18 سے کامیاب ہوئے۔

نتیجہ:

سیاسی ماہرین کے مطابق AIMIM اور کانگریس کے درمیان ووٹوں کی تقسیم نے BJP کو بڑا فائدہ پہنچایا۔



ناندیڑ مسلم امیدوار لسٹ 2026

ناندیڑ میونسپل کارپوریشن: انتخابی موازنہ

سیاسی جماعت 2017 نشستیں 2026 نشستیں تبدیلی
بی جے پی (BJP) 06 45 +39
کانگریس (INC) 73 12 -61
ایم آئی ایم (AIMIM) 00 13 +13
ونچت (VBA) 00 05 +05
شیو سینا 01 04 +03
این سی پی (NCP) 00 01 +01
آزاد / دیگر 01 01 0
کل نشستیں 81 81 —

ناندیڑ: ناندیڑ واگھالا شہر میونسپل کارپوریشن (NWMC) کے انتخابی نتائج نے شہر کی سیاسی صورتحال کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ حالیہ نتائج کے مطابق، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 81 میں سے 45 نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت کے ساتھ میدان مار لیا ہے۔

پارٹی پوزیشن کا خلاصہ

اس الیکشن میں بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے، جبکہ دیگر جماعتوں کی کارکردگی درج ذیل رہی:
* بی جے پی: 45 نشستیں
* ایم آئی ایم (AIMIM): 13 نشستیں
* کانگریس: 12 نشستیں
* ونچت بہوجن آگھاڑی: 05 نشستیں
* شیو سینا: 04 نشستیں
* این سی پی اور آزاد: 01-01 نشست

مسلم نمائندگی میں نمایاں اضافہ

اس بار کارپوریشن میں مسلم کمیونٹی کی نمائندگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 25 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جبکہ 2017 میں یہ تعداد 22 تھی۔

* ایم آئی ایم کا غلبہ: ایم آئی ایم نے حیدر باغ (وارڈ 11) اور چوفالا (وارڈ 13) جیسے علاقوں میں کلین سویپ کرتے ہوئے اپنی تمام 13 نشستیں مسلم امیدواروں کے ذریعے جیتیں۔
* کانگریس کے مسلم چہرے: کانگریس کی 12 میں سے 9 نشستوں پر مسلم امیدوار کامیاب ہوئے، جن میں وارڈ نمبر 12 (عمر کالونی) اور وارڈ نمبر 18 (دیگاؤں چاؤل) کے تمام امیدوار شامل ہیں۔
* دیگر: ونچت بہوجن آگھاڑی (وارڈ 7) اور این سی پی (وارڈ 15) سے بھی مسلم نمائندوں نے کامیابی حاصل کی۔
اہم وارڈز کے نتائج
* توروڈا بزرگ: بی جے پی کی کویتا موڑے اور ستیش دیشمکھ نے یہاں سے بڑی جیت حاصل کی۔
* شراوستی نگر: ونچت بہوجن آگھاڑی نے اس وارڈ کی تمام 4 نشستوں پر قبضہ کر لیا۔
* سڈکو/ہڈکو: بی جے پی نے یہاں 5 کی 5 نشستیں جیت کر اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی یہ جیت اس کے مضبوط کیڈر کی وجہ سے ہے، جبکہ ایم آئی ایم اور کانگریس کے درمیان ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ بھی بی جے پی کو ملا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading