ناندیڑ:22فروری ۔(ورق تازہ نیوز)مسلم سوشل اینڈ پولٹیکل ایکٹویسٹ ناندیڑ نے ناندیڑ میں وزیراعلی دیویندر پھڑنویس سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں مسلمانوں کے مسائل پر مبنی مطالباتی میمورنڈم پیش کیا جس میں کہا گیا کہ مراٹھا سماج کو دیئے گئے ریزرویشن کاوہ خیر مقدم کرتے ہیں لیکن سابقہ اتحادی حکومت نے معاشی‘ پسماندگی اور تعلیمی اعتبار سے پسماندہ مسلمانوں کو بھی ریزرویشن دیا تھا لیکن قانونی مسائل کی وجہ سے یہ ریزرریوشن منسوخ ہو گیا اس لئے وزیراعلی سے مطالبہ ہے کہ مراٹھا سماج کی طرز پر مسلمانوں کو بھی قانون دائرے میں رہتے ہوئے فی الفور ریزرویشن دیا جائے ۔
وفد نے مزید کہا کہ مرکز و ریاست کی اس وقت کی یوپی اے حکومت نے ملک بھر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے لیے کے 5مراکز کھولنے کا اعلان کیا تھا جس میں سے ایک مرکز اورنگ آباد ضلع کے خلد آباد میں شروع کرنے کومنظوری دی گئی تھی جس کے لیے اراضی بھی محفوظ کی گئی تھی لیکن مرکزی حکومت نے آج تک کوئی توجہ نہیںدی ۔ اس لئے ہماراحکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ مراٹھواڑہ کے طلبا ءکی تعلیمی پسماندگی کودورکرنے کیلئے یہ مرکز جلدا زجلد شروع کرے ۔ اس کے علاوہ ناندیڑمیں تعمیر ریاست مہاراشٹر کے پہلے اردو گھر کا جلد از جلد افتتاح عمل میں لایا جائے کیونکہ دو سال سے یہ عمارت تعمیر ہو کر کھڑی ہے لیکن اس افتتاح عمل میں نہیں آ سکا ہے ۔ اسی طرح ناندیڑ سمیت مہاراشٹر کے تمام اضلاع میں مسلم لڑکیوں کی مسلم لڑکی کی تعلیمی ترقی کے لئے سرکاری ہاسٹل کا قیام بھی عمل میں لایاجائے ۔
وزیراعلی کو دیئے گئے اس میمورنڈم پر ناندیڑکے معروف ڈاکٹر ایم اے۔ عباسی‘ فاروق احمد‘ الطاف حسین‘ محمد سکندر‘ عزیز قریشی یوسف مومن‘ حافظ عبدالرزاق ‘مولانا آصف ندوی کے دستخط ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلمانوں کے مسائل سے ہمیشہ کنارہ کشی اختیار کرنے والی اورمسلمانوں کی فلاح وبہبود کے فنڈ میں کمی کرنیوالی بی جے پی حکومت کس طرح مسلمانوں کے مسائل پر توجہ دیتی ہے۔ کیونکہ بی جے پی کی یہی پالیسی رہتی ہے کہ مسلمانوں کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں تعلیمی اور معاشی طور پر پسماندہ کیاجائے ۔ وزیراعلی فرنویس ان مطالبات پر کتنا سنجیدگی سے غور کرتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
بہرحال آج ناندیڑ میں مسلمانوں کے ایک نمائندہ وفد نے وزیراعلی سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں مسلمانوں اور اُن کے تعلیمی ومعاشی مسائل سے واقف کروایا جو یقینا خوش آئند بات ہے۔