شیوسینا میں بڑی بغاوت، ادھو ٹھاکرے کے 6 ارکانِ پارلیمنٹ کے علیحدہ گروپ کو منظوری

نئی دہلی: مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر بڑا سیاسی دھماکہ ہوا ہے۔ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا میں بغاوت پر عملی طور پر مہر لگ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ادھو ٹھاکرے گروپ کے 6 ارکانِ پارلیمنٹ نے علیحدہ پارلیمانی گروپ کی تشکیل کے لیے گزشتہ روز لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے پاس درخواست جمع کرائی تھی، جسے آج منظوری ملنے کی خبر سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ان ارکانِ پارلیمنٹ نے خود کو ایک آزاد گروپ کے طور پر تسلیم کیے جانے کی درخواست کی تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے نئے گروپ کو منظوری دے دی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد شیوسینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) کے حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔

ادھر راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ سنجے راوت فوری طور پر اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کے لیے پہنچ گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اسپیکر سے یہ مطالبہ کریں گے کہ کسی بھی فیصلے سے قبل ادھو ٹھاکرے گروپ کا مؤقف بھی سنا جائے۔

دوسری جانب شیوسینا (ادھو گروپ) کے رکنِ پارلیمنٹ اروند ساونت نے اسپیکر کو چار صفحات پر مشتمل ایک خط بھی روانہ کیا تھا۔ اس خط میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ کسی بھی علیحدہ گروپ کی تشکیل یا ممکنہ انضمام سے قبل پارٹی کی جانب سے اعتراضات کو مدنظر رکھا جائے۔

تاہم اطلاعات کے مطابق باغی ارکانِ پارلیمنٹ نے پہلے ہی آزاد گروپ کی منظوری کے لیے درخواست جمع کرا دی تھی، جس کے باعث اسپیکر نے فیصلہ صادر کر دیا۔ سیاسی حلقوں میں اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب علیحدہ گروپ کو منظوری مل چکی ہے تو ادھو ٹھاکرے گروپ کی جانب سے کل ہونے والی میٹنگ کے لیے جاری کیے گئے وہپ (Whip) کی قانونی اور سیاسی حیثیت کتنی مؤثر باقی رہے گی۔

اس سیاسی پیش رفت کو مہاراشٹر کی سیاست میں ایک نئے موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے آنے والے دنوں میں دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading