E20 پیٹرول سے پرانی گاڑیوں کا انجن خراب ہوا تو انشورنس کلیم ملے گا یا نہیں؟ بڑی وضاحت سامنے آگئی

لبھارت میں E20 پیٹرول کے استعمال کو لے کر پرانی گاڑیوں کے مالکان میں کافی تشویش پائی جا رہی ہے۔ خاص طور پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر 2023 سے پہلے کی کار یا موٹر سائیکل، جو E20 پیٹرول کے لیے موزوں نہیں ہے، میں E20 ایندھن استعمال کرنے سے انجن یا فیول سسٹم کو نقصان پہنچ جائے تو کیا انشورنس کمپنی کلیم مسترد کر سکتی ہے؟

یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب معروف انشورنس کمپنی ICICI Lombard کی ایک بلاگ پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ صرف E10 (10 فیصد ایتھانول ملا ہوا پیٹرول) کے لیے تیار کی گئی گاڑیوں میں E20 (20 فیصد ایتھانول ملا ہوا پیٹرول) کا استعمال لاپرواہی یا غلط استعمال تصور کیا جا سکتا ہے۔ بلاگ کے مطابق اگر اس وجہ سے گاڑی کو نقصان پہنچتا ہے تو انشورنس کلیم مسترد ہونے کا امکان موجود ہے۔

تاہم اس بیان کے بعد ملک بھر میں گاڑی مالکان کے درمیان الجھن پیدا ہو گئی، جس کے بعد کمپنی نے اپنی وضاحت جاری کی ہے۔

کمپنی کے مطابق گاڑی کی اصل موٹر انشورنس پالیسی بدستور مؤثر رہے گی اور صرف E20 پیٹرول استعمال کرنے کی بنیاد پر پالیسی منسوخ نہیں ہوگی۔ البتہ اگر گاڑی میں ایتھانول کے باعث کیمیائی زنگ (Chemical Corrosion) یا بتدریج پیدا ہونے والا نقصان (Consequential Damage) ثابت ہو جائے تو ایسے مخصوص نقصانات کے کلیم مسترد کیے جا سکتے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اپریل 2025 سے بھارت میں عام طور پر صرف E20 پیٹرول ہی دستیاب ہے، جبکہ E10 پیٹرول کی فراہمی تقریباً بند ہو چکی ہے۔ ایسے میں پرانی گاڑیوں کے مالکان کے پاس E20 استعمال کرنے کے علاوہ زیادہ متبادل موجود نہیں۔ دوسرا آپشن XP100 (خالص پیٹرول) ہے، لیکن اس کی قیمت تقریباً 160 روپے فی لیٹر ہے اور یہ ہر جگہ دستیاب بھی نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پرانی گاڑیوں کے مالکان اپنی گاڑی کے مینوفیکچرر کی ہدایات پر عمل کریں اور اگر گاڑی E20 کے لیے منظور شدہ نہیں ہے تو سروس سینٹر سے مشورہ ضرور لیں تاکہ مستقبل میں کسی تکنیکی یا انشورنس سے متعلق مسئلے سے بچا جا سکے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading