ناندیڑ:16 اکتوبر ۔(ورق تازہ نیوز)ناندیڑکے حلقے اسمبلی شمال اور حلقے اسمبلی جنوب میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہے۔ تشہیری مہم اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے ۔19اکتوبرکوشام پانچ بجے تک ہی تشہیری مہم کی اجازت ہے ۔جبکہ 21اکتوبر کورائے دہی عمل میں آرہی ہے ۔ اس لیے سب سیاسی جماعتوں کے قائدین ناندیڑ کے دورے پر تشریف لا رہے ہیں ۔ناندیڑ حلقہ جنوب میں کانگریس ‘شیوسینا‘مجلس اتحاد المسلمین اور ونچت بہوجن اگھاڑی اور آزاد امیدوار دلیپ کندکرتے اہم امیدوار ہے۔
ان تمام سیاسی پارٹیوں کے اہم لیڈران اور قائدین ناندیڑ کا پہلے مرحلے میں دورہ کرچکے ہیں جبکہ آخری مرحلے کی انتخابی تشہیری مہم کیلئے بھی آج ناندیڑ میں مجلس کے قومی صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی بھی ایک انتخابی جلسے سے خطاب کیا ۔وہ اس سے قبل بھی ایک جلسہ عام سے خطاب کرچکے ہیں ۔اس طرح وہ اندرون دس یوم ناندیڑ کے دوسری مرتبہ دورہ پر آچکے ہیں۔جبکہ کانگریس کے امیدوار موہن راو ہمبرڈے کی تشہیری مہم کے لیے مختلف سیاسی لیڈران بھی ناندیڑ میں قیام پذیر ہیں۔
آج ناندیڑ میں معروف بالی وڈ اداکار اور کانگریس پارٹی کے سینئر قائد شتروگھن سنہا ناندیڑ میں انتخابی جلسے سے خطاب کیا۔ حلقہ جنوب کے ونچت بہوجن اگھاڑی کے امیدوار فاروق احمد کی تشہیری مہم کے لیے قائد پرکاش امبیڈکر بھی ناندیڑ کا دورہ کرچکے ہیں اور مزید ایک دو دن میں پھر ایک مرتبہ ناندیڑ کا دورہ کرنے کی توقع ہے ۔جبکہ امبیڈکر کی شریک حیات بھی ناندیڑ میں فاروق احمد کے مختلف انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔فاروق احمد تعلیم یافتہ اور نوجوان قائد ہے اورانھیں ہر سماج و طبقہ میں عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے حلقہ جنوب کے مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوار صابر چاوس جو کہ کانگریس پارٹی کو خدا حافظ کہہ کر مجلس میں شمولیت اختیار کی ہے اور مجلس کے ٹکٹ پر چناو لڑ رہے ہیں اور کارپوریٹر رہے چکے ہیں۔اس لیے وہ کافی تجربہ کار لیڈر ہے۔ان کی تشہیری مہم بھی زوروں پر چل رہی ہے۔اپنے حلقے کے مختلف علاقوں میں انہوں نے کئی جلسے اور کارنر میٹنگوں کا انعقاد کیا ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شرکت کر رہے ہیں۔
حلقہ جنوب پر شیوسینا کا قبضہ ہے اس لیے اس مرتبہ ہیمنت پاٹل کی اہلیہ راجشری پاٹل کو امیدوار بنایاگیا ہے۔کیونکہ ہیمنت پاٹل ہنگولی کے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوچکے ہیں۔ اس لیے ان کی جگہ راجشری پاٹل کو انتخابی میدان میں اتراگیا ہے۔ ان کی تشہیری مہم بھی بڑے پیمانے پر چل رہی ہے لیکن اس مرتبہ انہیں سینئر سیاستداں اور بی جے پی کے شہر صدر دلیپ راو کندکرتے سے سخت مقابلہ ہے کیونکہ کند کرتے کے لئے بی جے پی کے لیڈران کافی محنت کر رہے ہیں ۔انکے انتخابی جلسوں میں شرکت کرکے انہیں کامیاب بنانے کی اپیل بھی کر رہے ہیں۔فی الحال جنوب میں چار رخی مقابلہ نظر آرہا ہے۔
جبکہ ناندیڑ شمال میں کانگریس پارٹی کے امیدوار ڈی پی ساونت کی پوزیشن کافی مضبوط ہے یہاں ان کے مخالف میں مجلس سے فیروز خان لالہ انتخابی میدان میں ہے اور شیوسینا سے سے کا رپوےرٹر بالاجی کلیانکر کو ٹکٹ دیا گیا ہے ان کی تشہیری مہم بھی زوروں پر چل رہی ہے۔اس حلقے سے بھی ونچت اگھاڑی نے بھی اپنا امیدوار کھڑا کیا ہے لیکن اس کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں ہے کیونکہ وہ پوری طرح سے تشہیری مہم سے غائب نظر آرہا ہے۔اس لیے اس حلقے میں میں کانگریس ‘ مجلس اور شیوسینامیں ہی مقابلہ نظر آرہا ہے۔