ناندیڑ:20اپریل (ورق تازہ نیوز)ناندیڑ حلقہ لوک سبھا کے لیے 18 اپریل کو رائے دہی عمل میں آئی اس مرتبہ ریکارڈ تعداد میں یعنی 65.15 فیصد رائے دہندگان نے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے جو سال 2014 کی بہ نسبت پانچ فیصد زائد ہے لیکن اس اضافی رائے دہی کا فائدہ کس امیدوارکو ہوگا؟ س پر شہر میں کافی گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔ونچت بہوجن اگھاڑی پر بھی سبھی کی نظریں ہیں۔ناندیڑ حلقہ سے کانگریس کے موجودہ ایم پی و امیدوار اشوک راو چوہان کی امیدواری سے ناندیڑ کو کافی اہمیت حاصل ہوگئی ہے ۔جب کہ بی جے پی نے رکن اسمبلی پرتاپ پاٹل چکھلی کر کو اپنا امیدوار بنایا تھا جو کہ شیوسینا کو چھوڑ کربی جے پی میں کادامن تھام لیاتھا ۔

اسی طرح ریاست میں قائم ونچت بہوجن اگھاڑی نے بھی ناندیڑ حلقہ سے پروفیسر یشپال بھنگے کو انتخابی میدان میں دو ماہ قبل ہی اتار دیاتھااس امیدوار نے بھی تشہیری مہم کے آخری مرحلہ تک اپنی مہم اچھی طرح جاری رکھی جس کی وجہہ سے ناندیڑمیں سہ رُخی مقابلہ ہوگیا ۔اب تک 15 لوک سبھا انتخابات کی تاریخ پر نظر ڈالیں تواس سے قبل 1999 اور 1984 ان دو سالوں میں 60 فیصد سے زائد رائے دہی عمل میں آئی تھی لیکن اس مرتبہ 65 فیصد سے زائد رائے دہی عمل میں آئی ہے۔ جس کا فائدہ کس امیدوار کو ہوگا اس پر سبھی کی نگاہیں مرکوز ہے ۔ ناندیڑ ضلع میں میونسپل کارپوریشن ‘ضلع پریشد کے علاوہ مختلف مقامی مجالیس بلدیہ پر کانگریس کا قبضہ ہے اس لیے کانگریس نے لوک سبھا چناو¿ کی تشہیری مہم میں بھی سبقت حاصل کی جبکہ بی جے پی کے امیدوار پرتاپ پاٹل کی تشہیر کے لیے وزیراعظم نریندر مودی ‘ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کے علاوہ شیوسینا اور بی جے پی کے اعلی قائدین نے ناندیڑ کا دورہ کیا ۔جب کہ ونچت اگھاڑی کے امیدوار یشپال بھنگے کیلئے ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر‘ ایم آئی ایم قائد جناب اسدالدین اویسی بھی دو مرتبہ ناندیڑ کا دورہ کر چکے ہیں اسی لئے مقابلہ اب سہ رخی ہوگیاہے ۔
اس مرتبہ رائے کے تناسب میں اضافہ ہونے سے اس کا فائدہ کس امیدوار کو ہوگا اس کا 23 مئی کو نتیجہ آنے پر ہی پتہ چلے گا۔ ضلع میں سب سے زیادہ رائے دہی بھوکر تعلقہ میں70.71 فیصد ہوئی ہے جو کانگریس کا روایتی گڑھ مانا جاتا ہے اس لیے کانگریس کو اسکا فائدہ ہوگا اس طرح کا دعوی پارٹی ذرائع نے کیا ہے ۔
ناندیڑ کے دو حلقہ اسمبلی جات شمال وجنوب میں بھی 60 فیصد سے زائد رائے دہی عمل میں آئی ہے جس کا فائدہ کامیاب ہونے والے امیدوار کو ہوگا۔ شہر میں دلت ۔مسلم ووٹ کافی اہمیت کے حامل ہے جس پر کامیاب امیدوار کادارومدارہوگا۔ اس لئے سب کی نگاہیں 23 مئی کے نتائج پر لگی ہوئی ہے۔