ناندیڑ اسلحہ ضبطی معاملہ: گواہوں کے بیانات مکمل، دفاعی وکلاءحتمی بحث کے لیئے تیار، گلزار اعظمی

gulzarخصوصی جج بحث سننے کے لیئے تیار نہیں، لاک ڈاﺅن کی وجہ سے  تاخیر

ممبئی: 14اگست(ورق تازہ نیوز) مہاراشٹر کے ناندیڑ ضلع کے مختلف علاقوں سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار پانچ ملزمین کے مقدمہ میں سرکاری اور دفاعی گواہوں کے بیانات مکمل ہوچکے ہیں نیز دفاعی وکلاءحتمی بحث کرنے کے لیئے تیار ہیںلیکن خصوصی این آئی اے عدالت کی جانب سے انہیں بحث کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، خصوصی جج نے وکلاءسے کہا کہ حالات معمول پر آنے کے بعد عدالت حسب سابق کام کرنا شروع کردیگی جس کے بعد حتمی بحث کی سماعت کی جائے گی ۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ان ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ار شد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ دفاعی وکلاءبحث کرنے کے لیئے تیار ہیں لیکن عدالت کی جانب سے انہیں اجازت نہیں دی جارہی ہے نیز اس درمیان عدالت نے ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی درخواست کو بھی مسترد کردیا ہے جس کی وجہ سے ملزمین اور ان کے اہل خانہ میں بے چینی بڑھ رہی ہے ۔گلزار اعظمی نے کہا کہ استغاثہ کے مطابق ریاستی انسدا ددہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس )نے ان ملزمین کو 30 اگست 2012ءکو ناندیڑ ضلع کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا تھا اور ان کے قبضے سے چار ریوالور سمیت دیگر ہتھیار ضبط کرنے کا دعوی کیا تھا لیکن سرکاری گواہوںکی گواہی سے ایسا لگتا ہے کہ ان ملزمین کو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت جعلی مقدمہ میں گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ اس معاملے میں گواہی دینے والے بیشتر آزاد گواہ اپنے سابقہ بیانوں سے منحرف ہوچکے ہیں اور پولس والوں کی گواہی بھی مشکوک رہی ہے ۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزمین کے دفاع میں جمعیة علماءنے وکلاءکی ایک ٹیم تیار کی ہے جس میں ایڈوکیٹ عبدالواہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ ،یڈوکیٹ افضل نواز، ایڈوکیٹ رازق شیخ ، ، ایڈوکیٹ ارشد شیخ، ایڈوکیٹ عادل شیخ و دیگر شامل ہیں۔گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزم عرفان غوث کی ضمانت کی عرضداشت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لیکن لاک ڈاﺅن ہونے کی وجہ سے مقدمہ سماعت کے لیئے پیش نہیں ہورہا ہے لیکن ایڈوکیٹ آن ریکارڈ گورو اگروال نے رجسٹرار سپریم کورٹ آف انڈیا سے تحریری درخواست کی ہیکہ وہ عرفان غوث کی ضمانت عرضداشت پر سماعت کرائی جائے۔

واضح رہے کہ ان ملزمین کی گرفتاری کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جا رہا تھا لیکن بعد میں جب جمعیة علماءناندیڑ سمیت دیگر سماجی تنظیموں نے ان نوجوانوں کی گرفتاری پر احتجاج کیا تو معاملے کی تفتیش 2006مالیگاﺅں بم دھماکہ مقدمہ کی طرز پر این آئی اے کے سپرد کی گئی ۔استغاثہ کے مطابق ملزمین کاتعلق ممنوع دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ اور حرکت الجہاد سے ہے اور ان کے نشانے پر ناندیڑ علاقے کے ایم پی ،ایم ایل اے اور صحافی حضرات تھے۔اس معاملے میںاے ٹی ایس نے ملزمین محمد مزمل عبدالغفور ، محمد صادق محمد فاروق ، محمد الیاس محمد اکبر ، محمد عرفان محمد غوث اور محمد اکرم محمد اکبر پر آرمس قانون کی دفعات3،25 اور یواے پی اے قانون کی دفعات 10،13،15، اور16 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا فی الوقت ملزمین تلوجہ سینٹرل جیل میں مقید ہیں اور ان کے مقدمہ کی سماعت خصوصی این آئی اے جج ڈی ای کوٹھالیکر کررہے ہیں ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading