جمعیة علماءنے خصوصی این آئی اے عدالت میں عرضداشت داخل کی، گلزار اعظمی
ممبئی: 23 جولائی (ورق تازہ نیوز)دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار گذشتہ سات سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ناندیڑ کے ایک مسلم نوجوان کی ضمانت پرر ہائی کی درخواست آج خصوصی این آئی اے عدالت میں داخل کی گئی جسے عدالت نے سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے قومی تفتیشی ایجنسی کو اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے ۔آج ملزم محمد الیاس کی ضمانت عرضداشت اسے قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی)کے وکیل شریف شیخ نے داخل کی اور عدالت کو بتایا کہ حال ہی میں ممبئی ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ کے جسٹس اندرجیت مہنتی اور جسٹس اے ایم بدر نے اس معاملے کا سامنا کررہے ایک دیگر ملز م عرفان محمد غوث کی ضمانت منظور کی تھی لہذا عرض گذار محمد الیاس کو بھی یکسانیت یعنی کہ پیریٹی کی بنیاد پر ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے کیونکہ دونوں کے مقدمہ میں مماثلت ہے ۔ایڈوکیٹ شریف شیخ نے ضمانت عرضداشت داخل کرتے ہوئے خصوصی این آئی اے جج دنیش کوٹھلیکر کو بتایا کہ قانون میں ہے کہ یکسانیت کی بنیاد پر ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جاسکتا ہے، اب جبکہ ملزم عرفان غوث کو ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کیا ہے اس کی بنیاد پر عرض گذار ملزم محمد الیاس کو بھی ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔ایڈوکیٹ شریف شیخ نے خصوصی عدالت کو بتایا کہ وہ ملزم کی ضمانت پر رہائی کی درخواست صرف یکسانیت کی بنیاد پر کررہے ہیں ورنہ اگر میرٹ پر دیکھا جائے تو ملزم کے خلاف بھی ابھی تک این آئی اے خصوصی عدالت میں کوئی بھی پختہ ثبوت پیش نہیں کرسکی جبکہ ٹرائل اختتام پذیر ہے۔ملزم محمد الیاس کی ضمانت عرضداشت داخل کیئے جانے کے بعد جمعیة علماءمہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ گذشتہ کل ملزم کے اہل خانہ نے ان سے دفتر جمعیة علماءمیں ملاقات کرکے محمد الیاس کی ضمانت پر رہائی کے لیئے کوشش کرنے کے لیئے کہا تھا جس کے بعد سینئر وکیل شریف شیخ سے صلاح و مشورہ کرکے ملزم کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت داخل کردی گئی جس پر جلد سماعت ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ ناندیڑ اسلحہ ضبطی معاملہ آخری مراحل میںہے اور فی الحال اس معاملے کی تفتیش کرنے والے چیف تفتیشی افسر بسٹ کی گواہی جاری ہے جس سے دفاعی وکلاءعبدالوہاب خان اور شریف شیخ جرح کریں گے۔