ناندیڑ اسلحہ ضبطی معاملہ: غلط بیانی پر ہائی کورٹ نے این آئی اے کے وکیل کی سرزنش کی

استغاثہ کے مطابق عرض گذار ملزم اور دیگر ملزمین کاتعلق ممنوع دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ اور حرکت الجہاد سے ہے اور ان کے نشانے پر ناندیڑ علاقے کے ایم پی ،ایم ایل اے اور صحافی حضرات تھے نیز ملزمین کو 30 اگست2012ءکو ناندیڑ ضلع کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا تھا اور ان کے قبضے سے چار ریوالور سمیت دیگر ہتھیار ضبط کرنے کا دعوی کا تھا ۔

ممبئی،23 جنوری(ورق تازہ نیوز)

مہاراشٹر کے ناندیڑ ضلع کے مختلف علاقوں سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار ملزم کی ضمانت عرضداشت پر سنوائی کے دوران آج ممبئی ہائی کورٹ نے قومی تفتیشی ایجنسی NIAکی نمائندگی کرنے والے وکیل کی غلط بیانی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس کی سرزنش کی نیز ۲۱ فروری کو ضمانت عرضداشت پر بحث کرنے کے احکامات جاری کیئے۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی عرض گذار ملزم عرفان غوث کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ار شد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزم عرفان غوث کی ضمانت عرضداشت کی سماعت کرتے ہوئے ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے ایس اوکا اور جسٹس اے ایس گڈکری کو وایڈوکیٹ مبین سولکر نے بتایا کہ سیشن جج کی جانب سے ہائی کورٹ کو موصول رپورٹ میں سیشن جج نے صاف لفظوں میں لکھا ہیکہ استغاثہ کے مطابق ابھی اس معاملے میں مزید 30 گواہوں کی گواہی باقی ہے اور مقدمہ کی سماعت مکمل ہونے میں تقریباً ایک سال لگے گا جبکہ آج عدالت میں این آئی اے کے وکیل نے کہا کہ وہ اس معاملے میں مزید 20 سرکاری گواہوں کو عدالت میں پیش کریں گے۔ این آئی ا ے کے وکیل سکھدیو کے متضاد بیانات کا عدالت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ عدالت این آئی ا ے کے بیانات پر مزید بھروسہ نہیں کرسکتی لہذا 21 فروری کو ملزم کے خلاف موجود ثبوت وشواہدکی روشنی میں اس کی ضمانت عرضداشت پر فیصلہ کیا جائے گا۔ایڈوکیٹ مبین سولکر نے عدالت کو مزید بتایا کہ دو سال قبل این آئی اے نے ۰۴ گواہوں کو عدالت میں پیش کرنے کا بیان دیا تھا جبکہ فی الوقت 52 سرکاری گواہوں کے بیانا ت درج ہوچکے ہیں اور مزید 30 گواہوں کو پیش کرنے کا استغاثہ منصوبہ بنا رہا ہے ایسے میں عرض گذار ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔آج ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ مبین سولکرکے ہمراہ ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ حفیظ و دیگر موجود تھے۔ استغاثہ کے مطابق عرض گذار ملزم اور دیگر ملزمین کاتعلق ممنوع دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ اور حرکت الجہاد سے ہے اور ان کے نشانے پر ناندیڑ علاقے کے ایم پی ،ایم ایل اے اور صحافی حضرات تھے نیز ملزمین کو 30 اگست2012ءکو ناندیڑ ضلع کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا تھا اور ان کے قبضے سے چار ریوالور سمیت دیگر ہتھیار ضبط کرنے کا دعوی کا تھا ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading