ناندیڑ:21اپریل ( ورق تازہ نیوز)ضلع میں گزشتہ 17 سالوں میںصرف 2سال ہی ایسے تھے جب بارش 50فیصد کے آس پاس ہوئی تھی ۔ باقی پندر سال اطمینان بخش بارش ہوئی ۔ ضلع میں منار ‘ بھامڑی اور وشنوپوری جیسے بڑے پروجیکٹ ہیں ۔پھر بھی عوام کوقحط سالی کاشکار بننا پڑتا ہے ۔اگر ضلع انتظامیہ منصوبہ بند طریقے سے پانی کی فراہمی اور استعمال کاپروگرام تیارکرتا ہے تو عوام کو بالخصوص دیہی عوام کو قحط سالی کاشکار ہونا نہیں پڑے گا۔ 2002تا2018 ان سترہ سالوں کامطالعہ کریں تو 2014 میں45فیصد اور 2015 سال میں 47.75فیصد بارش ہوئی تھی ۔ان دو سالوں کو چھوڑ کر باقی سالوں میں ضلع میں بھرپور اوراطمینان بخش بار ش ہوئی تھی پھر ہرسال دیہاتوں میں خشک سالی کی کیفیت پیدا ہوتی اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

پانی کی قلت کے مدنظر ضلع انتظامیہ نے جاریہ سال میں 486ٹینکروں کا نشانہ مقرر کیا ہے جن میں 58تجاویز کو منظوری دی گئی ہے ۔ آئندہ دنوں میں ٹینکروں کی تعداد میں اضافہ کاامکان ہے ۔ اس سال انتظامیہ نے قلت آب کودور کرنے کیلئے 1834 تجاویز کو منظوری دی ہے جس پر720.13لاکھ روپے خرچ آ¿ئے گا۔ گزشتہ سولہ سالوں کے دوران ضلع میں مختلف مقامات پر 4ہزار799بند کنوو¿ں کودوبارہ قابل استعمال بنایاگیا ہے ۔
ضلع میں 954ملی میٹربارش اوسطا ہوتی ہے ۔اس وقت وشنوپوری پروجیکٹ کی سب سے خراب حالت ہے ۔اس میںروزانہ پانی کی سطح میں کمی آتی جارہی ہے ۔ اس لئے ماہ مئی 2019میںشہریان ناندیڑ کوزبردست پانی کی قلت سے دوچار ہونا پڑسکتا ہے۔