ناندیڑ:2جولائی ( ورق تازہ نیوز) شہر کے بھاگیہ نگرپولیس اسٹیشن کے حدود میں 29 جون سری نگر علاقہ میں شرپسندوں کی جانب سے فرقہ وارانہ ماحول بگاڑنے کی کوشش کی گئی تھی۔29 جون کوورلڈکپT20میں ہندوستان کا مقابلہ جنوبی افریقہ سے فائنل مقابلہ تھا جس میں بھارت نے کامیابی حاصل کی۔ جس کے بعد سری نگر علاقہ میں ایک ہوسٹل کے طلبہ نے بڑے پیمانے پر جشن منایا۔
ڈی جے لگاکراشتعال انگیز نعرہ بازی بھی کی گئی جس پر علاقہ کے دیگر طبقہ کے نوجوانوں نے ان سے استفسارکیالیکن طلباءنے معاملے کو مزید بگاڑدیا۔طلبانے بھاگیہ نگر پولس اسٹیشن میںسری نگر کے نوجوانوں کے خلاف شکایت درج کروائی ۔ پولس نے یکطرفہ کاروائی کی اور مقدمہ نمبر283/24کے تحت دفعات 452,323,324,34 کے تحت مقدمہ درج کیا۔ پولس نے چھ مسلم نوجوانوں کوگرفتار کرلیا جن میںتین نابالغ تھے ۔گرفتاری کے بعدان کوعدالت میں پیش کیا گیا
۔تین نوجوانوںکوایک دن پولس کسٹڈی میںبھیج دیاگیااور آج دوبارہ عدالت میں پیش کیاگیا۔ جہاں جوڈیشیل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس اے وی جادھو نے ملزمین کے وکلاءایڈوکیٹ طہورپٹھان ‘ایڈوکیٹ افروز پٹیل سیداطہرپٹیل کی جرح کے بعد ان نوجوانوں کو پندرہ ہزار کے ذاتی مچلکہ پرضمانت پررہاکرنے کے احکامات جاری کئے۔
جب اس واقعہ کی اطلاع فوری طور پرمجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی نائب صدر مجلس سید معین کو ملی انھوں نے فی الفوراعلیٰ پولس افسران سے ربط قائم کرکے پولس کی یکطرفہ کاروائی کی مذمت کی اور گرفتار نوجوانوں کی رہائی کیلئے قانونی ٹیم تشکیل دی ۔ جس نے موثر نمائندگی کرکے نوجوانوں کو ضمانت پر رہا کروایا ۔ سید معین کی بروقت قانونی امداد و نمائندگی کے باعث ان لڑکوں کوضمانت مل گئی ۔ جس پر آج رات سری نگر کے نوجوانوں نے مجلس کے مرکزی دفتر پہنچ کر سید معین کی کثرت سے گلپوشی کرکے انکا شکریہ ادا کیا۔