مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کو خاطر خواہ نمائندگی دی جائے:حسین دلوائی

ممبئی: مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کی نمائندگی کا معاملہ ابھی سے بحث کا موضوع بننے لگا ہے۔ اس ضمن میں راجیہ سبھا کے سابق رکن حسین دلوائی نے پہل کرتے ہوئے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے سے دہلی میں ملاقات کی ہے۔ حسین دلوائی نے کانگریس کے قومی صدر سے مہاراشٹر میں آنے والے اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کو خاطر خواہ نمائندگی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

کانگریس کے قومی صدر سے ملاقات کے دوران سابق ایم پی حسین دلوائی نے شکایت کی کہ مہاراشٹر میں مسلمانوں کو سیاسی نمائندگی سے باہر رکھا جا رہا ہے۔ دلوائی نے کانگریس کے صدر سے کہا کہ مہاراشٹر میں قانون ساز کونسل کی ایک سیٹ پارٹی کے کسی مسلم کارکن دی جانی چاہئے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جو سیٹ مسلمان کو دی جانی چاہئے تھی، وہ ڈاکٹر پرگیہ ساتو کو دی گئی، جس پر ہمیں کوئی اعتراض بھی نہیں ہے۔

حسین دلوائی نے کانگریس کے قومی صدر سے کہا کہ مہاراشٹر میں مسلمانوں کی شرح 11.5 فیصد ہے۔ مہاراشٹر میں 40 مسلم اکثریتی اسمبلی حلقے ہیں جہاں سے مسلم امیدوار بہ آسانی منتخب ہو سکتا ہے۔ مسلمانوں کی شرح کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے انہیں 29 سے 30 سیٹیں دی جانی چاہئے۔ حسین دلوائی نے مزید کہا کہ ہمارا یہ مطالبہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کو ان کی شرح کے مطابق سیٹیں دی جائیں لیکن یہ ضرورت ہے کہ انہیں 20 سے 25 سیٹیں دی جائیں۔

حسین دلوائی نے یہ بھی کہا کہ یہ بات صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ مہاوکاس اگھاڑی میں شامل تمام پارٹیوں کو ملحوظ رکھنی چاہئے، جس کے لیے کانگریس پارٹی کو مضبوط موقف اختیار کرنی ہوگی۔ حسین دلوائی کے مطالبات سے کانگریس کے قومی صدر نے اتفاق کرتے ہوئے اس پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading