ناندیڑ:آج سدیشور ڈیم کا پانی وشنوپوری ڈیم میں پہونچے گا

ناندیڑ:1 1جون ۔( ورق تازہ نیوز)بالآخر ناندیڑ شہر کی پانی کی قلت کودور کرنے کےلئے سدیشور ڈیم سے پیر 10 جون کی سہ پہر چاربجے وشنوپوری کنال کے ذریعہ پانی وشنو پوری ڈیم کی طرف روانہ کردیاگیا گیا ہے ۔ یہ پانی بروز بدھ 12جون کودوپہر تک وشنوپوری ڈیم میں پہونچ رہا ہے۔ا س طرح کی اطلاع محکمہ آبپاشی کے ایگزیکٹیو انجینئر اور ناندیڑ واگھالہ شہر میونسپل کارپوریشن کے کمشنر لہو راج مالی نے دی ہے ۔ سدیشور ڈیم سے وشنوپوری کافاصلہ 123 کلومیٹر ہے ۔تازہ ترین اطلاع کے بموجب پانی وشنوپوری ڈیم سے تقریبا 40کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ واضح ہو کہ سدیشور ڈیم سابقہ وزیراعلیٰ یشونت راوچوہان کے دور اقتدار میں پورنا ندی کو روک کر اونڈھا ناگناتھ سے قریب تعمیر کیاگیاتھا ۔اونڈھا ناگناتھ آج ہنگولی ضلع میں ہے ۔ اس وقت اس ڈیم کا پربھنی ضلع میںشمارتھا ۔اس ڈیم کی اونچائی 38 میٹر اورپانی کاذخیرہ کرنے کی گنجائش 0.9072 ملین کیوبک میٹر ہے ۔ یہ ڈیم 1968 میںشروع ہواتھا ۔اطلاع کے مطابق بروزبدھ کی صبح کوپانی وشنوپوری ڈیم میںداخل ہونا شروع ہوگا ۔معقول ذخیرہ آب ہونے کے بعد پانی کوپمپ کے ذریعہ تقطیر آب پلانٹ میں پہونچایاجائے گا اس کے بعد شہر کی پانی کی ٹاکیوں میںروانہ کیاجائے گا۔اس پانی کے پہونچنے سے شہر کی پانی کی قلت بڑی حد تک دور ہوجائے گی ۔ فی الحال وشنوپوری ڈیم میں پان ی نہیں ہے اور میونسپل کارپوریشن ڈیم کے بے کار پانی کو 10موٹروں کے ذریعہ کھینچ کر تقطیر آب پلانٹوں تک پہونچارہی ہیں ۔ناندیڑشہر اور ضلع میں پانی کی شدیدقلت کے مسئلہ پرتبادلہ خیال کےلئے ایم پی پرتاپ پاٹل چکھلی کر نے ضلع کلکٹرآفس میںیہ ہنگامی میٹنگ طلب کی تھی اس کے بعد انھوں نے ریاست کے وزیراعلیٰ پھڑنویس سے گفتگو کرکے ناندیڑکوسدیشور ڈیم سے پانی کی فراہمی کی مانگ کی تھی جس کو وزیراعلی نے منظور کرتے ہوئے اعلی حکام کواحکامات دئےے تھے کہ وہ سدیشور ڈیم کاپانی وشنوپوری ڈیم کی طرف فوری روانہ کرے ۔ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے پانی کی قلت سے متعلق معلومات فراہم کرنے کیلئے مین بلڈئنگ میں ایک کنٹرول روم قائم کیا ہے جہاں پر شہر کے کس علاقے میں کونسی تاریخ کو کتنے بجے پانی آئے گااس کی معلومات دی جارہی ہے ۔شہریان فون نمبر 02462- 234461پررابطہ کرسکتے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading