
شہر کے تعلیمی ادارے اور سرگرم تعلیمی شخصیات نئی تعلیمی پالیسی کے مسودے کے نقاط اور تبدیلیوں پر غور کریں اور حکومت کو اپنی آراء سے آگاہ کریں ؛ مالیگاؤں کلب کی اپیل
مالیگاؤں : تعلیم کسی بھی قوم کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ مالیگاؤں کلب نے روزِ اول سے ہی شہر میں تعلیم کے فروغ کیلئے مختلف خانوں میں اپنی خدمات پیش کرنے کی کوشیش کی ہے۔
مالیگاؤں کلب اس پیغام کے ذریعے مرکزی حکومت کی قومی تعلیمی پالیسی برائے 2019 کے مسودے کی جانب شہر عزیز کی سرگرم تعلیمی شخصیات نیز تمام تعلیمی اداروں کی توجہ مبذول کروانا چاہتی ہے۔
مرکزی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل نے National Education Policy قومی تعلیمی پالیسی برائے 2019 کے مسودّے Draft کوعام کردیا ہے۔ مسودہ کمیٹی برائے قومی تعلیمی پالیسی 2017 میں معروف سائنسداں کستوری رنگن کی قیادت میں تشکیل دی گئی تھی ۔ مسودہ کمیٹی نے 31 مئی 2019 کو مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل رمیش پوکھریال اور مرکزی وزیر برائے مملکت برائے فروغ انسانی وسائل سنجئے شام راؤدھتورے کے حوالے کردیا ہے ۔
رپورٹ کو حتمی شکل دینے سے قبل کمیٹی نے لوگوں سے رائے طلب کی تھی ۔ اب جبکہ رپورٹ کو حتمی شکل میں مرکزی حکومت کے روبرو پیش کردیا گیا ہے۔ رپورٹ کے متعلق تعلیمی ماہرین کا ماننا ہیکہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ہندوستانی تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے اشارے دیئے ہیں ۔رپورٹ میں بنیادی تعلیم سے لیکر اعلی تعلیم تک تبدیلی کی سفارشات کی گئی ہیں۔
حالانکہ مرکزی وزارت نے واضح کیا ہیکہ ڈرافٹ کے ذریعے کمیٹی نے شفارشات پیش کی ہیں ۔ اسے قبول کرنے یا قبول نا کرنے کا فیصلہ مرکزی حکومت کریگی ۔ مزید یہ کہ کمیٹی کی شفارشات پر متعلقین کی رائے بھی لی جائیگی ۔
دوسری جانب مودی حکومت کے دوبارہ برسرِاقتدار ہونے کے بعد قومی سطح پر اصلاح کے نام پر تبدیلیوں کے بھی اشارے مل رہے ہیں اس درمیان تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلیوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
مالیگاؤں کلب شہر کے تعلیمی اداروں اور تعلیمی میدان میں سرگرم افراد سے گذارش کرتی ہیکہ قومی تعلیمی پالیسی 2019 کے مسودے کا بغور مطالعہ کریں اور اس میں شامل اچھے مشوروں کی ستائیش کریں اور قابل اعتراض نکات پر اپنی رائے مرکزی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کو 30 جون تک nep.edu@nic.in پر روانہ کریں.
مالیگاؤں کلب کا خالص مقصد شہر کے تعلیمی اداروں کو نئی تعلیمی پالیسی سے باور کروانا ہے اور نئ تعلیمی پالیسی کے نفاذ سے قبل شہر کے تعلیمی اداروں کی جانب سے مرکزی حکومت کو اعتراف و اعتراضات سے واقف کروانا ہے۔ یقینی طور پر چند افراد مالیگاوں کلب کی اس کوشیش پر غیر سنجیدگی کا اظہار کرینگے لیکن مالیگاؤں کلب اس عمل کے ذریعے قومی تعلیمی معاملات میں شہر مالیگاؤں کے تعلیمی اداروں کی کم ازکم ادنیٰ نمائندگی کی خواہشمند ہے تاکہ ہمارے تعلیمی ادارے اور افراد قومی تعلیمی مشن کا کسی نہ کسی طرح حصہ بن سکیں اور نئی تعلیمی پالیسی سے شہر عزیز کے طلبہ و طالبات کس طرح فیض یاب ہو اس کی بھی فکر کریں ۔ اس طرح کی تحریر مالیگاؤں کلب کے فعال رکن اور نیوز 18 کے نمائندے محی الدین نے فراہم کی