میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟؟؟

ایم۔ایم۔سلیم۔

9975783737

ملک عزیز میں میں آج کل مہنگائی ساتویں آسمان کو چھو رہی ہے، لیکن زمین پر اگر سب سے سستی چیز کوئی ہے تو وہ ہے خون مسلم کہ جب چاہا بہا دیا۔آزادی کے بعد سے لے کر آج تک ملک میں بس یہی ہو رہا ہے، کہ کسی نہ کسی بہانے یہاں بسنے والے مسلمانوں کو مختلف طریقوں سے تکالیف پہنچائی جا رہی ہیں۔ اور انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کبھی فسادات کے بہانے، تو کبھی بم دھماکوں کے بہانے نے تو کبھی دہشت گردی کے بہانے۔ وغیرہ وغیرہ، جو ایک طویل فہرست ہے، لیکن اب اس معاملے نے شدت اختیار کرلیا ہے۔ اب کھلے عام مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے ۔

2014 کے بعد جب سے سنگھی ٹولہ اقتدار پر قابض ہوا ہے تب سے ایک نیا حربہ استعمال کیا جارہا ہے۔ ماب لنچنگ کی شکل میں پولیس اور سرکار کی سرپرستی میں کھلے عام یہ کام کیا جارہا ہے۔ کبھی چوری کے الزام میں تو کبھی ممنوعہ بیف کے نام پر تو کبھی گائے کے نام پر، سرکاری غنڈے دہشتگردی کا کھلے عام مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جس سے اب تک نہ جانے کتنے بے گناہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

یکم اپریل 2017 کو اسی طرح کا ایک معاملہ راجھستان کے الور میں پیش آیا جس میں پہلو خان کو بھیڑ نے مار مار کر ہلاک کردیا۔ حالانکہ اس معاملے کا ویڈیو پوری دنیا کے سامنے موجود ہے۔ لیکن ہمارا سسٹم دیکھیئے مکمل ثبوت ہونے کے باوجود عدالت میں تمام ملزمان بری ہوجاتے ہیں۔ اگر ہمارے ملک کے علاوہ اس طرح کا یا کوئی دوسرا معاملہ دنیا میں کسی بھی جگہ پیش آتا اور اس کا اس طرح سے ویڈیو کی شکل میں پختہ ثبوت موجود ہوتا تو ممکن ہے کہ اب تک تمام ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچا دیا جاتا۔ لیکن ہمارے ملک کا سسٹم ہی ایسا بن چکا ہے کہ پہلے تفتیش کے نام پر کمیٹیاں، کمیشن، پھر تاریخ پر تاریخ اور آخر میں نا انصافی۔ آخر عدالت نے کس بنیاد پر تمام مجرمین کو بری کردیا؟ کیا پہلو خان کے معاملے میں مارپیٹ کا ویڈیو عدالت کے سامنے ملزم کے خلاف پختہ ثبوت نہیں ہے؟ یا پھر جج صاحب نے کسی دباؤ میں اپنا فیصلہ سنایا؟ یا انہیں اپنے لویا بن جانے کا ڈر تھا؟

انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ ملزمان کے خلاف اگر پختہ ثبوت موجود ہوں تو پھر انصاف میں دیر کس بات کی؟ جبکہ پہلو خان کی مارپیٹ کا پورا ویڈیو آج بھی موجود ہے۔ اتنا بڑا اور پختہ ثبوت ہونے کے باوجود تمام ملزمان بری ہوجاتے ہیں! یہ تو ہماری عدلیہ کے لئے بھی سوچنے کا وقت ہے۔ تو کیا اب مردوں کو قبر سے نکل کر گواہی دینا ہوگا؟ ایسا صرف بھارت میں ہی ہو سکتا ہے اور شاید مودی ہے تو ممکن ہے۔

یہ صرف پہلو خان کا ہی معاملہ نہیں ہے ایسے کتنے لوگوں کا خون ناحق اب تک بہا دیا گیا ہیں۔ اور ثبوت ہونے کے باوجود اب تک نہ ہی انصاف مل سکا اور نہ ہی مجرم قانون کے شکنجے میں ہے۔ بلکہ کھلے عام آزاد فضا میں نفرت کا زہر گھولتے ہوئے گھوم رہے ہیں۔ کیا اس حد تک یہاں کا نظام عدل بکھر گیا ہے۔؟ تو پھر ایسا نظام عدل کس کام کا؟ کہ جہاں عوام کو سرے سے انصاف ہی نہ مل سکے۔ ایسا نظام عدل کس فائدے کا جہاں صرف حکومت اور اس کے ہم نواؤں کو بچایا جائے؟ جب قاتل کوئی نہیں، قصور وار کوئی اور نہیں، تو عدالت سے سوال پوچھنا لازمی بنتا ہے کہ پھر پہلو خان کو کس نے قتل کیا؟ تو کیا اب عوام کو یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ آپ جہاں انصاف مانگ رہیں ہیں وہ جگہ تو اثر و رسوخ رکھنے والوں کی پناہ گاہ بن چکی ہے؟ یہاں مجرموں اور ملزموں کے کالے کارناموں کو سفید کیا جا رہا ہے۔؟ اب یہ ارباب اقتدار کی آرام گاہیں بن چکی ہیں سب کچھ کر لو اور یہاں آجاؤ کہ یہاں تم محفوظ ہو۔ یہ نظام عدل اقلیتوں، دبے کچلوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس طرح کا نظام عدل جمہوریت کے تقاضوں کو کبھی پورا نہیں کرسکتا۔ تو پھر انصاف کس سے مانگا جائے؟

ہندوستانی عوام عدلیہ پر آج بھی بھروسہ کرتی ہے ۔ لیکن جس طرح سے حالات سامنے آتے جارہے ہیں اس سے عوام کا اعتماد ڈگمگا سکتا ہے۔ عدالتوں کو چاہیے کہ وہ عوام کا اعتماد حاصل کریں۔

آج نہ جانے کتنے باپ، بہنیں، بیٹیاں، کتنی بیوائیں، یتیم بچے، انصاف کے لئے منتظر ہیں، یہ کب تک نالہ و شیون بلند کرتے رہیں گے؟ کب تک گریہ زاری کرتے رہیں گے؟ کب تک آہ و فغاں کرتے رہیں گے؟ کب تک انصاف کے لئے در در بھٹکتے رہیں گے؟

تو کیا ہمیں اب یہ جان لینا ہوگا کہ اس ملک سے لگ بھگ انصاف ختم ہو چکا ہے اور اگر کسی کو لگتا ہے کہ ختم نہیں ہوا ہے تو اتنا ضرور ہے کہ پیمانے ضرور بدل گئے ہیں۔

پہلو خان معاملے پر تو اتنا ہی کہا جاسکتا کہ

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading