بھیونڈی:آج 19 ستمبر 2025 بروز جمعہ، سنی جامع مسجد کوٹرگیٹ بھیونڈی میں I LOVE MOHAMMAD کی نسبت سے یوم منایا گیا۔ جس میں ہمارے آقا ﷺ کی سیرت پر ان”محمد ﷺ کی فضیلت پر کوٹرگیٹ مسجد کے امام حضرت مولانا محمد غلام یزدانی مصباحی صاحب قبلہ نے فرمایا کہ *محبتِ رسول ﷺ ہی اصل ایمان ہے۔*
محبتِ رسول ﷺ ایمان کی جان اور قربِ الٰہی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
قرآن کریم کا واضح فرمان ہے: "النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ” (الأحزاب: 6)
ترجمہ: نبی کریم ﷺ مومنوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔
صاحبان فکر و نظر! پس یاد رکھیے ایمان فقط وہی مقبول و معتبر ہے جو عشقِ رسالت ﷺ سے مربوط ہو۔
حدیث پاک کی مشہور زمانہ کتاب، صحیح بخاری میں ہے کہ ایک دن خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے اپنی جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔
رحمت عالم ﷺ نے فرمایا:
"لا، والذي نفسي بيده، حتى أكون أحبّ إليك من نفسك” (رواہ البخاری)
ترجمہ: نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جب تک میں تمہیں تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوں (تمھارا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا)
پھر جب جناب عمر نے عرض کیا: اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔
تو حضور پاک ﷺ نے فرمایا:
"الآن يا عمر”
اے عمر! اب تمہارا ایمان کامل ہوا۔
*اسمِ مبارک ﷺ کی عظمت*
رسول اللہ ﷺ کے نامِ مبارک پر بچوں کے نام رکھنا باعثِ برکت اور وجہ رحمت ہے۔
حدیث شریف میں ہے: مَا فِي النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيَّ بَعْدِي مِنْ رَجُلٍ يُسَمَّى بِاسْمِي. (کنزالعمال)
ترجمہ: لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب میرے نزدیک وہ شخص ہے جس کا نام میرے نام پر رکھا گیا ہو۔
"محمد” کے معنی ہیں: "وہ جس کی بار بار تعریف کی جائے”۔
یہ نام حقیقتاً صرف حضور ﷺ کی ذاتِ اقدس ہی کے لائق ہے۔
شاعرِ عرب، حضرت حسان بن ثابت نے کہا:
وَأَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِي
وَأَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
ترجمہ: میری آنکھ نے حضور ﷺ سے زیادہ حسین کبھی نہ دیکھا، اور عورتوں نے نبی رحمت ﷺ سے زیادہ جمیل کبھی جنم نہ دیا۔
اے قوم مسلم! یاد رکھیے کہ محبتِ رسول ﷺ صرف زبانی دعوے کا نام نہیں، بلکہ اطاعتِ شریعت، اتباعِ سنت، اور ناموسِ رسالت پر غیرت رکھنے کا نام ہے۔
گھروں کو درود و سلام سے معطر کیجیے!
اپنی زندگی کو سننِ مصطفیٰ ﷺ کے سانچے میں ڈھالیے!
خطبہ جمعہ کے آخر میں امام صاحب نے نعرہ تکبیر نعرہ رسالت ﷺ لبیک یارسول کے نعروں سےمصلیان کے ایمان کو تازہ کردیا،سبھی لوگوں نے اجتماعی طور پر ایک آواز میں I LOVE MOHAMMAD کا نعرہ بلند کیا اور اپنی ایمانی طاقت کا مظاہرہ کیا اور *(میں محمد ﷺ سے محبت کرتا ہوں)*اس اظہار محبت کے حق کو کوئی بھی طاقت ہمیں نہیں روک سکتی ۔