ایپل نے کہا ہے کہ اس کے امریکہ میں فروخت ہونے والے زیادہ تر آئی فونز اور دیگر ڈیوائسز کی تیاری اب چین کی بجائے انڈیا میں ہو گی۔چین وہ ملک ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے لگائے گئے تجارتی ٹیرفز کا خاص طور پر نشانہ رہا ہے۔
ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹِم کُک کے مطابق آئندہ مہینوں میں امریکہ کے لیے بننے والے زیادہ تر آئی فونز انڈیا میں تیار کیے جائیں گے جبکہ ویتنام آئی پیڈز اور ایپل واچ جیسے آلات کی تیاری کا ایک بڑا مرکز بنے گا۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایپل نے اندازہ لگایا ہے کہ امریکی درآمدی ٹیکسز سے اس سہ ماہی میں کمپنی کے اخراجات میں تقریباً 900 ملین ڈالرکا اضافہ ہو سکتا ہے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے نئی ڈیوٹیوں سے اہم الیکٹرانکس کو مستثنیٰ قرار دیا ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ بارہا یہ کہہ چکی ہے کہ وہ چاہتی ہے کہ ایپل اپنی پیداوار امریکہ منتقل کرے۔
یہ اندازہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر کی کمپنیاں واشنگٹن کی تجارتی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی عالمی تجارتی تبدیلیوں کا جواب دینے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہی ہیں۔جمعرات کو سرمایہ کاروں کے ساتھ ایک کال کے دوران، جس میں کمپنی کی مالی کارکردگی پر گفتگو کی گئی، ایپل کے سربراہ نے امریکہ میں کی جانے والی سرمایہ کاری کی طرف خاص توجہ دلائی۔
مسٹر کُک نے گفتگو کا آغاز اس یاددہانی سے کیا کہ کمپنی آئندہ چار سالوں میں امریکہ کی مختلف ریاستوں میں 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ایپل امریکہ میں فروخت ہونے والی مصنوعات کی اپنی ’سپلائی چین‘ کو چین سے ہٹا رہا ہے اور اس تبدیلی کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ممالک انڈیا اور ویتنام ہوں گے۔مسٹر کُک نے کہا کہ ’ہم توقع کرتے ہیں کہ امریکہ میں فروخت ہونے والے زیادہ تر آئی فونز انڈیا میں تیار ہوں گے۔‘
اسی دوران ویتنام ’تقریباً تمام آئی پیڈ، میک، ایپل واچ اور ایئر پوڈز‘ کی امریکہ میں فروخت کے لیے بنیادی پیداواری مرکز بنے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے علاوہ دنیا کے دیگر حصوں میں فروخت ہونے والی ایپل کی زیادہ تر مصنوعات چین میں ہی تیار ہوں گی۔تاہم انڈیا میں پیداواری یونٹس منتقل کرنا وقت طلب اور مہنگا عمل ہو گا، جس کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہو گیایم این جی ویلتھ کی چیف انویسٹمنٹ آفیسر شانتی کیلیمن نے بی بی سی کے ’ٹوڈے‘ پروگرام کو بتایا: ’ایپل کی سپلائی چین پر اب بھی ٹیرف اثرانداز ہوں گے اور ان کو منتقل کرنے اور نئی فیکٹریاں بنانے پر بھی لاگت آئے گی۔‘
جب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ان کی انتظامیہ امریکہ میں درآمد ہونے والی مصنوعات پر ’جوابی ٹیرف‘ لگائے گی تاکہ کمپنیوں کو امریکہ میں ہی پیداوار پر آمادہ کیا جا سکے تو ایپل کے شیئرز کی قیمت میں تیزی سے کمی آئی تھی۔
تاہم بعد میں ٹرمپ انتظامیہ نے ٹیرف کے اطلاق کے کچھ ہی دیر بعد اعلان کیا کہ مخصوص الیکٹرانکس، جیسے فونز اور کمپیوٹرز، کو ان محصولات سے استثنیٰ دیا جائے گا۔امریکہ کی ٹیرف وار سے پیدا ہونے والی تجارتی بے یقینی نے ابھی تک ایپل کی فروخت پر کوئی اثر نہیں ڈالا ہے۔
کمپنی نے بتایا کہ سال کے پہلے تین ماہ میں اس کی آمدن گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں پانچ فیصد کے اضافے کے ساتھ 95.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
ایمیزون جو کہ ایک اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ہے اس کی فروخت بھی ابھی متاثر نہیں ہوئی۔ حالیہ سہ ماہی میں اس کی شمالی امریکہ کی ای-کامرس کاروباری آمدنی میں سال بہ سال آٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔کمپنی نے آئندہ مہینوں میں اسی طرح کی ترقی کی پیش گوئی کی ہے۔
ایمیزون کے سربراہ اینڈی جَیسی نے کہا: ’ظاہر ہے، ہم میں سے کوئی بھی نہیں جانتا کہ ٹیرف سے متعلق صورتحال کب مستحکم ہو گی‘ تاہم انھوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ان کی کمپنی نے ماضی میں کووڈ کی وبا جیسے مشکل حالات میں خود کو پہلے سے زیادہ مضبوط کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’ہم اکثر چیلنجنگ حالات کا دوسروں کے مقابلے میں بہتر سامنا کر لیتے ہیں۔ میں پُرامید ہوں کہ ایسا ایک بار پھر ہو سکتا ہے۔‘