میرے قلم پہ ہے نوک جسکے جنجر کی

ذوالقرنین احمد

جب ایک بیباک مصنف اپنی قلم کے ذریعے معاشرے کے بگاڑ اور ملک کے سسٹم میں ہورہی بد عنوانیوں کومنظر عام پر لاتا ہے۔ اور سچائی کا آئینہ دیکھاتا ہے۔تو جو فرقہ پرست، گندی ذہنیت، رشوت خور، حرام خور، اپنے مفاد کیلے قوم کا اور ملک کا سودا کرنے والے افراد ایسے حق گو لکھاری کے دشمن ہوجاتے ہیں۔مصنف اپنی قلم سے قوم کے اندر انقلابی تحریک پیدا کرنا چاہتا ہے۔ وہ قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ بیدار کرتا ہے۔ لیکن اسے لیے ضروری ہے کہ قوم اسے پڑھے اور پڑھ کر ان باتوں کو عمل میں لائے۔ اور قوم کی ترقی کا راز تخیل پر موقوف ہے۔ اس لیے ذہین سازی کرنے کیلئے مطالعہ کا شوق و ذوق پیدا کرنا ضروری ہے بچوں سے لیکر بوڑھے، مرد وخواتین تک ہر شخص کو مطالعہ کرنا چاہیے اسلامی تاریخ سے اور مستقبل کے حالات سے واقفیت کیلئے قرآن و حدیث، تاریخی شخصیات، کی لکھیں ہوئی کتابوں اور رسالوں اخبارات کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہے کہ ہم اتنا سب کچھ سو لکھ رہے ہیں وہ اردو میں ہوتا ہے وہ ملک کے سسٹم میں موجود افراد تک نہیں پہنچ پاتا ہے۔ انکی بات درست ہے۔ اسکے لیے ہمیں ہندی اخبارات بھی جاری کرنے چاہیے۔ اور جو اردو میں شائع ہورہے ہیں وہ قوم کے اندر تحریک پیدا کرنے کام کریں لیکن یہ سب اس وقت فائدہ مند ہوگا جب پڑھنے والوں کی تعداد اکشر مسلمانوں کی ہو پڑھنے والے ہی نہیں رہے تو کس کی ذہین سازی کی جائے۔

ان اخباروں کے زریعے ملک کے سسٹم تک آواز پہنچی گی جب بیدار ہوگی جب اپنے قومی مسائل سے واقف ہوگی اپنے ساتھ ہورہی نا انصافیوں سے واقف ہوگی تب وہ آواز اٹھائیں گے لیکن اس کے لیے مطالعہ کرنا ضروری ہے۔اس لیے خرید کر اخباروں اور رسالوں کا مطالعہ کرنے کی عادت ڈالیے۔ قلمکاروں کو تحفظ فراہم کر‌نے کیلئے انکا ہر لحاظ سے تعاون کریں۔ ورنہ سچ بولنے والوں کے خلاف فرقہ پرست عناصر ہر وقت تاک میں لگے رہتے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading