جن مساجد کی تعمیر قانونی حیثیت سے واضح نہیں ، ان میں لاؤڈ اسپیکر لگانے کی اجازت نہیں ہوگی
ممبئی (ایجنسی) ممبئی میں بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ کریٹ سومیا نے ایک پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ مہاراشٹر حکومت نے مساجد میں نصب لاؤڈ اسپیکروں کے استعمال پر نئی رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔ ان کے مطابق اب ایسی مساجد جن کی تعمیر قانونی حیثیت سے واضح نہیں، ان میں لاؤڈ اسپیکر لگانے کی اجازت نہیں ہوگی ، اور ریاست بھر میں اس حوالے سے مکمل سروے کیا جائے گا۔
سومیا نے بتایا کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر پہلی یا دوسری بار میں ہی تین ماہ قید کی سزادی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ چھ ماہ سے ممبئی کی ان مساجد کی نشاندہی کر رہے ہیں جہاں لاؤڈ اسپیکر مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر نصب کیے گئے ہیں۔ ان کے بقول شیواجی نگر اور گوونڈی کے علاقوں میں واقع 72 مساجد میں تقریبا 500 لاؤڈ اسپیکر لگے ہیں، جن میں سے 70 فیصد مساجد کی تعمیر غیر قانونی طریقے سے کی گئی ہے اور ان کے پاس لاؤڈ اسپیکر کی اجازت بھی موجود نہیں ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مسجد کے نام پر لینڈ جہاد کیا جا رہا ہے اور زور دیا کہ پولیس کو لاؤڈ اسپیکر کے سلسلے میں فڈنویس نویس حکومت کی گائیڈ لائنز پر اسختی سے عمل درآمد کرانا چاہیے۔ سومیا نے وضاحت کی کہ انہیں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر اعتراض نہیں، لیکن جب پانچ پانچ اسپیکر لگا کر آواز اس حد تک پھیلائی جاتی ہے کہ صوتی آلودگی پیدا ہو، تو یہ ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔( بہ شکریہ ایشیا ایکسپریس اورنگ آباد)