مہاراشٹر سیاسی ہلچل LIVE: کانگریس لیڈر کھڑگے، وینوگوپال اور احمد پٹیل جائیں گے ممبئی

شرد پوار سے بات کرنے ممبئی جائیں گے کانگریس لیڈر کھڑگے، وینوگوپال اور احمد پٹیل

مہاراشٹر میں سیاسی ہلچل کے درمیان کانگریس کے سینئر لیڈر ملکارجن کھڑگے، کے سی وینوگوپال اور احمد پٹیل ممبئی کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔ کے سی وینوگوپال نے ایک ٹوئٹ کر کے بتایا کہ ’’کانگریس صدر سونیا گاندھی نے آج صبح شرد پوار سے بات کی اور احمد پٹیل، ملکارجن کھڑگے اور مجھے شرد پوار کے ساتھ بات چیت کے لیے منتخب کیا۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’ہم تینوں اب ممبئی جا رہے ہیں اور شرد پوار جی سے بہت جلد ملاقات کریں گے۔‘‘


مہاراشٹر میں شیوسینا کی ہی حکومت بنے گی: منوہر جوشی

شیوسینا کے سینئر لیڈر منوہر جوشی نے مہاراشٹر میں شیوسینا کی حکومت بننے کا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ کانگریس کیا قدم اٹھانے والی ہے لیکن اتنا طے ہے کہ حکومت شیوسینا کی ہی بنے گی۔ قابل ذکر ہے کہ گورنر کوشیاری نے این سی پی کو آج رات 8.30 بجے تک اپنی طاقت ظاہر کرنے کا وقت دیا ہے اور اس کی کانگریس کے ساتھ لگاتار بات چیت چل رہی ہے۔ اگر شیوسینا این سی پی-کانگریس اتحاد کے ساتھ آتی ہے تو حکومت سازی کے راستے آسان ہو سکتے ہیں، لیکن ان پارٹیوں کے درمیان کچھ شرائط کو لے کر بات بگڑ بھی سکتی ہے۔

آج بھی ملنا مشکل نظر آ رہا سبھی اراکین اسمبلی کی حمایت والی چٹھی

این سی پی لیڈر اجیت پوار نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا ہے کہ آج سبھی اراکین اسمبلی کی حمایت پر مبنی چٹھی ملنا مشکل نظر آ رہا ہے کیونکہ میٹنگوں کا دور جاری ہے اور سیاسی صورت حال کافی الجھے ہوئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ آج این سی پی کو 8.30 بجے رات تک کا وقت گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے دیا ہے اور انھیں حکومت سازی کے لیے ضروری اراکین اسمبلی کی تعداد دکھانی ہوگی۔ گورنر نے حمایت دینے والے سبھی اراکین اسمبلی کی مکمل فہرست طلب کی ہے۔

اس درمیان ایک طرف کانگریس کے سینئر لیڈروں کی میٹنگ سونیا گاندھی کی رہائش پر چل رہی ہے اور دوسری طرف این سی پی لیڈروں کی میٹنگ بھی ممبئی میں ہو رہی ہے۔ علاوہ ازیں شیوسینا لیڈر آدتیہ ٹھاکرے آج اپنے اراکین اسمبلی کے ساتھ ہوٹل ریٹریٹ میں بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔

کوشش کرنے والوں کی کبھی شکست نہیں ہوتی: سنجے راؤت

مہاراشٹر میں سیاسی ہلچل منگل کے روز بھی صبح سے ہی جاری ہے۔ ایک طرف این سی پی اور کانگریس کے اہم لیڈروں کی میٹنگ ہونے والی ہے اور دوسری طرف شیوسینا لیڈر سنجے راؤت نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’لہروں سے ڈر کر کشتی پار نہیں ہوتی، کوشش کرنے والوں کی کبھی ہار نہیں ہوتی۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’ہم ہوں گے کامیاب… ضرور ہوں گے۔‘‘ سنجے راؤت کے اس ٹوئٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حکومت سازی کو لے کر پرعزم ہیں۔ چونکہ این سی پی اور کانگریس کو حکومت بنانے کے لیے شیوسینا کا ساتھ چاہیے ہوگا، اس لیے سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تینوں پارٹیاں ساتھ آ سکتی ہیں۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ وزیر اعلیٰ کی کرسی کس کے ہاتھ میں جائے گی، کیونکہ شیوسینا ہر حال میں اپنا وزیر اعلیٰ بنانا چاہتی ہے، چاہے وہ ڈھائی سال کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔


این سی پی اور کانگریس کی میٹنگ آج، حکومت سازی کے لیے نمبر حاصل کرنے کی ہوگی کوشش

پیر کی شب شیوسینا لیڈر آدتیہ ٹھاکرے نے مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کر کے حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا تھا لیکن انھوں نے این سی پی و کانگریس کے ذریعہ حمایت کی چٹھی گورنر کو نہیں دی تھی جس کی وجہ سے ان کا دعویٰ خارج کر دیا گیا۔ شیوسینا کے بعد رات میں ہی کوشیاری نے این سی پی لیڈر اجیت پوار کو راج بھون بلا کر انھیں منگل کی شب 8.30 بجے تک یہ ثابت کرنے کا موقع دیا ہے کہ وہ اراکین اسمبلی کی مکمل فہرست پیش کریں جس میں ان کی حمایت کا اعلان بھی ہو۔ اس سلسلے میں آج این سی پی اور کانگریس کی انتہائی اہم میٹنگ ہونے والی ہے۔ اب حکومت سازی کے لیے یہ راستہ رہتا ہے کہ این سی پی-کانگریس اتحاد کو شیوسینا حمایت دے۔ لیکن شیوسینا بغیر وزیر اعلیٰ کی کرسی کے کسی بھی حکومت میں شامل نہیں ہونا چاہتی۔ ایسی صورت میں دیکھنے والی بات یہ ہے کہ تینوں پارٹیوں کے درمیان کس طرح کا سمجھوتہ عمل میں آتا ہے۔

دوسری طرف بی جے پی مہاراشٹر ایشو میں بالکل خاموشی اختیار کیے ہوئی ہے۔ بی جے پی لیڈر سدھیر منگنٹیوار نے میڈیا سے کہا ہے کہ وہ ’انتظار کرو اور دیکھو‘ کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ حکومت سازی کے لیے کس طرح کے اقدام کیے جاتے ہیں اور پھر حکمراں طبقہ کی پالیسی کیا ہوتی ہے۔



یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading