گورنر نے آئین کا مذاق اڑایا: کانگریس
گورنر کے ذریعہ صدر راج کی سفارش کیے جانے اور مرکزی کابینہ کے ذریعہ اس سفارش کو منظور کیے جانے کے بعد مہاراشٹر میں سیاسی گہما گہمی بہت بڑھ گئی ہے۔ گورنر کے فیصلے سے حیران کانگریس نے اس قدم کو آئین کا مذاق قرار دیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ جس پارٹی کو اپنی قوت ثابت کرنے کے لیے وقت دیا گیا ہے، ابھی وہ وقت ختم بھی نہیں ہوا ہے تو صدر راج نافذ کرنے کی سفارش آخر کس طرح کر دی گئی۔
صدر راج سے متعلق سفارش کی راج بھون نے کی تصدیق
ریاست میں صدر راج کی سفارش سے متعلق راج بھون سے بڑا بیان سامنے آیا ہے۔ ابھی تک یہ بات مصدقہ نہیں تھی لیکن اب راج بھون نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ مہاراشٹر میں صدر راج کے لیے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کی طرف سے سفارش کر دی گئی ہے۔ راج بھون کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر میں آئین کے مطابق حکومت نہیں چل سکتی، اس لیے گورنر نے رپورٹ میں صدر راج کی سفارش کی ہے۔
Raj Bhavan: Governor of Maharashtra Bhagat Singh Koshyari having been satisfied that as Govt of Maharashtra cannot be carried on in accordance with the Constitution, has today submitted a report as contemplated by the provisions of Article 356 of Constitution (President's Rule). pic.twitter.com/ThaRzbZT2N
— ANI (@ANI) November 12, 2019
گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے خلاف شیوسینا پہنچی سپریم کورٹ
مہاراشٹر میں عجیب و غریب صورت حال پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ ایک طرف مودی کابینہ کے ذریعہ ریاست میں صدر راج کی منظوری دے دی گئی ہے اور اس پر صدر جمہوریہ کے مہر کا انتظار ہے، اور دوسری طرف شیوسینا گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے۔ شیوسینا نے ایک عرضی داخل کر کہا ہے کہ اسے حکومت سازی کے لیے محض 24 گھنٹے کا وقت دیا گیا جب کہ اس نے تین دنوں کا وقت مانگا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ شیوسینا نے حکومت سازی کے لیے گورنر کی جانب سے ملے 24 گھنٹے کا وقت ختم ہونے سے ایک گھنٹے پہلے راج بھون پہنچ کر گزارش کی تھی کہ انھیں 48 گھنٹے کا مزید وقت دیا جائے۔ لیکن شیوسینا کے مطالبہ کو گورنر مسترد کر دیا تھا اور این سی پی کو حکومت سازی کے لیے نمبر ثابت کرنے کے لیے کہا تھا۔
Shiv Sena files petition in Supreme Court challenging Maharashtra Governor's decision to not extend the time given to the party to prove their ability to form government. Advocate Sunil Fernandez has filed the plea for Shiv Sena. pic.twitter.com/vVbZqCdtH5
— ANI (@ANI) November 12, 2019
مرکزی کابینہ نے صدر راج کی دی منظوری، اب صرف صدر جمہوریہ کے مہر کا انتظار!
میڈیا ذرائع کے مطابق مہاراشٹر میں صدر راج کے لیے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے سفارش کر دی ہے۔ مرکزی کابینہ کی میٹنگ بھی اس سلسلے میں ہوئی ہے اور میڈیا کا کہنا ہے کہ اس میٹنگ میں صدر راج کی منظوری دے دی گئی ہے اور اب صرف صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی منظوری کا انتظار ہے۔
صدر راج نافذ کرنے کی کوششوں کی خبریں جیسے ہی میڈیا میں آنی شروع ہوئیں، شیوسینا کی سرگرمیاں ایک بار پھر بڑھ گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ریاست میں صدر راج نافذ ہوا تو شیوسینا سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا سکتی ہے۔ بتایا یہ بھی جا رہا ہے کہ ادھو ٹھاکرے اس سلسلے میں کپل سبل اور احمد پٹیل سے بات چیت کر رہے ہیں۔
Sources: #Maharashtra Governor Bhagat Singh Koshyari recommends President's rule in the state. pic.twitter.com/h1tpcrRhos
— ANI (@ANI) November 12, 2019
Sources: If the Maharashtra Governor imposes President Rule in the state, Shiv Sena can approach Supreme Court. Uddhav Thackeray has talked to Kapil Sibal and Ahmed Patel over the issue. pic.twitter.com/C8t1ZpqH8f
— ANI (@ANI) November 12, 2019
صدر راج کی سفارش کرنے کی خبر سے ہنگامہ، پرینکا چترویدی نے ظاہر کی حیرانی
کچھ نیوز پورٹل پر اس طرح کی خبریں چل رہی ہیں کہ مہاراشٹر میں صدر راج نافذ کرنے کی سفارش کر دی گئی ہے۔ اس خبر سے مہاراشٹر کی سیاست میں ایک ہنگامہ سا برپا ہو گیا ہے۔ حالانکہ ابھی تک کسی بھی نیوز پورٹل نے اس سلسلے میں کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔ ایک نیوز پورٹل کی خبر شیئر کرتے ہوئے شیوسینا کی خاتون لیڈر پرینکا چترویدی نے حیرانی ظاہر کی ہے اور لکھا ہے کہ عزت مآب گورنر صدر راج کی سفارش کیسے کر سکتے ہیں جب کہ این سی پی کو دیا گیا وقت ابھی ختم نہیں ہوا ہے؟
How can the honourable governor recommend President rule till the time given to NCP doesn’t lapse? https://t.co/YuSNhyPQUf
— Priyanka Chaturvedi (@priyankac19) November 12, 2019
شرد پوار سے بات کرنے ممبئی جائیں گے کانگریس لیڈر کھڑگے، وینوگوپال اور احمد پٹیل
مہاراشٹر میں سیاسی ہلچل کے درمیان کانگریس کے سینئر لیڈر ملکارجن کھڑگے، کے سی وینوگوپال اور احمد پٹیل ممبئی کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔ کے سی وینوگوپال نے ایک ٹوئٹ کر کے بتایا کہ ’’کانگریس صدر سونیا گاندھی نے آج صبح شرد پوار سے بات کی اور احمد پٹیل، ملکارجن کھڑگے اور مجھے شرد پوار کے ساتھ بات چیت کے لیے منتخب کیا۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’ہم تینوں اب ممبئی جا رہے ہیں اور شرد پوار جی سے بہت جلد ملاقات کریں گے۔‘‘
Hon'ble Congress President Smt.Sonia Gandhi spoke to Shri.Sharad Pawar today morning and deputed Shri.Ahamed Patel, Shri.Mallikarjun Kharge and myself for holding further discussions with Shri.Pawar.
We three are going to Mumbai now and will meet Shri.Pawar at the earliest.— K C Venugopal (@kcvenugopalmp) November 12, 2019
مہاراشٹر میں شیوسینا کی ہی حکومت بنے گی: منوہر جوشی
شیوسینا کے سینئر لیڈر منوہر جوشی نے مہاراشٹر میں شیوسینا کی حکومت بننے کا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ کانگریس کیا قدم اٹھانے والی ہے لیکن اتنا طے ہے کہ حکومت شیوسینا کی ہی بنے گی۔ قابل ذکر ہے کہ گورنر کوشیاری نے این سی پی کو آج رات 8.30 بجے تک اپنی طاقت ظاہر کرنے کا وقت دیا ہے اور اس کی کانگریس کے ساتھ لگاتار بات چیت چل رہی ہے۔ اگر شیوسینا این سی پی-کانگریس اتحاد کے ساتھ آتی ہے تو حکومت سازی کے راستے آسان ہو سکتے ہیں، لیکن ان پارٹیوں کے درمیان کچھ شرائط کو لے کر بات بگڑ بھی سکتی ہے۔
آج بھی ملنا مشکل نظر آ رہا سبھی اراکین اسمبلی کی حمایت والی چٹھی
این سی پی لیڈر اجیت پوار نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا ہے کہ آج سبھی اراکین اسمبلی کی حمایت پر مبنی چٹھی ملنا مشکل نظر آ رہا ہے کیونکہ میٹنگوں کا دور جاری ہے اور سیاسی صورت حال کافی الجھے ہوئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ آج این سی پی کو 8.30 بجے رات تک کا وقت گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے دیا ہے اور انھیں حکومت سازی کے لیے ضروری اراکین اسمبلی کی تعداد دکھانی ہوگی۔ گورنر نے حمایت دینے والے سبھی اراکین اسمبلی کی مکمل فہرست طلب کی ہے۔
اس درمیان ایک طرف کانگریس کے سینئر لیڈروں کی میٹنگ سونیا گاندھی کی رہائش پر چل رہی ہے اور دوسری طرف این سی پی لیڈروں کی میٹنگ بھی ممبئی میں ہو رہی ہے۔ علاوہ ازیں شیوسینا لیڈر آدتیہ ٹھاکرے آج اپنے اراکین اسمبلی کے ساتھ ہوٹل ریٹریٹ میں بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔
کوشش کرنے والوں کی کبھی شکست نہیں ہوتی: سنجے راؤت
مہاراشٹر میں سیاسی ہلچل منگل کے روز بھی صبح سے ہی جاری ہے۔ ایک طرف این سی پی اور کانگریس کے اہم لیڈروں کی میٹنگ ہونے والی ہے اور دوسری طرف شیوسینا لیڈر سنجے راؤت نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’لہروں سے ڈر کر کشتی پار نہیں ہوتی، کوشش کرنے والوں کی کبھی ہار نہیں ہوتی۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’ہم ہوں گے کامیاب… ضرور ہوں گے۔‘‘ سنجے راؤت کے اس ٹوئٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حکومت سازی کو لے کر پرعزم ہیں۔ چونکہ این سی پی اور کانگریس کو حکومت بنانے کے لیے شیوسینا کا ساتھ چاہیے ہوگا، اس لیے سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تینوں پارٹیاں ساتھ آ سکتی ہیں۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ وزیر اعلیٰ کی کرسی کس کے ہاتھ میں جائے گی، کیونکہ شیوسینا ہر حال میں اپنا وزیر اعلیٰ بنانا چاہتی ہے، چاہے وہ ڈھائی سال کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔
"लहरों से डर कर नौका पार नहीं होती,
कोशीश करने वालों की कभी हार नही होती ।'
बच्चन.
हम होंगे कामयाब..
जरूर होंगे…— Sanjay Raut (@rautsanjay61) November 12, 2019
این سی پی اور کانگریس کی میٹنگ آج، حکومت سازی کے لیے نمبر حاصل کرنے کی ہوگی کوشش
پیر کی شب شیوسینا لیڈر آدتیہ ٹھاکرے نے مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کر کے حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا تھا لیکن انھوں نے این سی پی و کانگریس کے ذریعہ حمایت کی چٹھی گورنر کو نہیں دی تھی جس کی وجہ سے ان کا دعویٰ خارج کر دیا گیا۔ شیوسینا کے بعد رات میں ہی کوشیاری نے این سی پی لیڈر اجیت پوار کو راج بھون بلا کر انھیں منگل کی شب 8.30 بجے تک یہ ثابت کرنے کا موقع دیا ہے کہ وہ اراکین اسمبلی کی مکمل فہرست پیش کریں جس میں ان کی حمایت کا اعلان بھی ہو۔ اس سلسلے میں آج این سی پی اور کانگریس کی انتہائی اہم میٹنگ ہونے والی ہے۔ اب حکومت سازی کے لیے یہ راستہ رہتا ہے کہ این سی پی-کانگریس اتحاد کو شیوسینا حمایت دے۔ لیکن شیوسینا بغیر وزیر اعلیٰ کی کرسی کے کسی بھی حکومت میں شامل نہیں ہونا چاہتی۔ ایسی صورت میں دیکھنے والی بات یہ ہے کہ تینوں پارٹیوں کے درمیان کس طرح کا سمجھوتہ عمل میں آتا ہے۔
دوسری طرف بی جے پی مہاراشٹر ایشو میں بالکل خاموشی اختیار کیے ہوئی ہے۔ بی جے پی لیڈر سدھیر منگنٹیوار نے میڈیا سے کہا ہے کہ وہ ’انتظار کرو اور دیکھو‘ کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ حکومت سازی کے لیے کس طرح کے اقدام کیے جاتے ہیں اور پھر حکمراں طبقہ کی پالیسی کیا ہوتی ہے۔
BJP to adopt a policy of 'wait and watch': Sudhir Mungantiwar
Read @ANI story | https://t.co/Ss9nZtY3a8 pic.twitter.com/iUXOqEk6dm
— ANI Digital (@ani_digital) November 11, 2019
Ajit Pawar, Nationalist Congress Party (NCP) in Mumbai: NCP and Congress will have a meeting tomorrow (12th November) to decide about Shiv Sena, many senior leaders from both the parties will be present in tomorrow's meeting. #MaharashtraGovtFormation https://t.co/Xw3zLNakvb
— ANI (@ANI) November 11, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
