ممبئی1 1مئی (ایجنسیز)بمبئی ہائی کورٹ کے مسلمانوں کو تعلیمی سطح پر ریزرویشن دینے کے ایک سابقہ حکمنامہ کو نظرانداز کرتے ہوئے مہاراشٹر حکومت نے پیشہ ورانہ کورسس کررہے مراٹھا فرقے کے طلباءکو ان کی سالانہ فیس دینے کا فیصلہ کیا ہے ،جوکہ حق بجانب نہیں ہے اور اسی طرزپر مسلم فرقے کوبھی تعلیمی میدان میں ریزرویشن دیا جائے ،اس کا مطالبہ کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر حسین دلوائی نے کیا ہے۔
واضح رہے کہ چند سال قبل سابقہ کانگریس حکومت نے ریاست میں مراٹھا اور مسلمانوں کو معاشی اور تعلیمی میدانوں میں ریزرویشن دینے کا اعلان کیا تھا اور بی جے پی کی قیادت میں اتحادی حکومت نے مراٹھا ﺅں کا ریزرویشن دینے کا فیصلہ برقراررکھا ،لیکن مسلمانوں کو دیئے ریزرویشن کو نظرانداز کردیا ،حالانکہ بمبئی ہائی کورٹ نے اس سلسلہ میں حکم دیا تھا کہ مراٹھا فرقے کے بجائے مسلمانوں کو تعلیم میں ریزرویشن ملنا چاہئے ،جس پر حکومت نے عمل نہیں کیا۔اب حکومت نے مراٹھا طلباءکو پیشہ ورانہ کورسس کے لیے فیس دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔
حسین دلوائی کجاکہنا ہے کہ مراٹھا ریزرویشن کو کورٹ نے مسترد کردیا تھا ،لیکن مسلمانوں کے تعلق سے عدالت عظمیٰ حکم دیا کہ ان کی پسماندگے کے پیش نظر،فرقہ کوانہیں تعلیمی سطح پر ریزرویشن دیاجائے۔لیکن حکومت نے انہیں سہولیات مہیا کرانے کے بجائے ان کا ریزرویشن کا حق ہی چھین لیا ہے ۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جس طرح مراٹھا سماج کو ریزویشن اور تعلیمی سطح پر سہولیات فراہم کررہی ہے ،اس طرز پر مسلمانوں کو بھی سہولیات باہم فراہم کی جانا چاہئیے تاکہ انکی پسماندگی دورکی جاسکے ۔اس سلسلہ میں انہوںنے سچرکمیٹی کا حوالہ دیا ہے اور کہا کہ کمیٹی نے ملک میں مسلمانوں کی معاشی ،سماجی اور تعلیمی پسماندگی کے سلسلے میں آئینہ دکھا دیاہے۔
ٰٰ