مہاراشٹر تنازعہ LIVE: این سی پی کا لاپتہ ایم ایل اے منظر عام پر، کہا ’میں پارٹی کے ساتھ ہوں‘

این سی پی کے لاپتہ ایم ایل منظر عام پر، بولے ’میں پارٹی کے ساتھ ہوں‘

این سی پی کے ایم ایل اے دولت درودا، جن کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی تھی اور این سی پی کی جانب سے پولس میں شکایت بھی درج کروائی گئی تھی، وہ اب منظر عام پر آ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں سلامت ہوں۔ میں نے این سی پی کے ٹکٹ پر الیکشن جیتا ہے، تو وفاداری تبدیل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ شرد پوار اور اجیت پوار جو بھی فیصلہ لیں، میں ان کے ساتھ ہوں۔ کسی بھی افواہ پر یقین نہ کریں۔‘‘


سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیا

سپریم کورٹ نے دلائل کو سننے کے بعد تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور کل صبح تک بی جے پی کو ’حمایت کا خط‘ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اب اس معاملہ کی سماعت کل صبح ساڑھے دس بجے کی جائے گی۔

گورنر کو اختیار، جسے چاہے وزیر اعلی بنائیں، مکل روہتگی

مکل روہتگی نے کہا کہ گورنر غلط ہے، سپریم کورٹ ایسا کوئی حکم جاری نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کا فیصلہ جائزے سے بالاتر ہے۔ روہتگی نے کہا کہ وہ یہاں بی جے پی (آشیش) اور کچھ آزاد امیدوار کی طرف سے پیش ہوا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکلز 360 اور 361 میں صدر اور گورنر کے اختیارات کی تفصیل ہے۔ آرٹیکل 361 کے تحت، گورنر اپنے دائرہ اختیار میں ہونے والے کاموں کے لئے کسی عدالت کے سامنے جوابدہ نہیں ہے۔ نیز گورنر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ وزیر اعلی کے طور پر جسے چاہے منتخب کر سکتا ہے۔

’مرکز کے اشارے پر کام کرنے والے گورنر کی نیت صاف نہیں‘، سپریم کورٹ میں سماعت جاری

کانگریس اور این سی پی کی جانب سے پیش ہونے والے ابھیشیک منو سنگھوی نے سپریم کورٹ میں کہا کہ مہاراشٹر میں جوڑ توڑ کی سیاست کو روکنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں جلد از جلد فلور ٹیسٹ کرانے کی ضرورت ہے۔


’ہمارے پاس اکثریت ہے، ہم اسے ثابت کرنے کو تیار‘

شیوسینا ، این سی پی اور کانگریس کی عرضی پر سماعت کے دوران کپل سبل نے سپریم کورٹ میں کہا، ’’مہاراشٹر کے لوگوں کو حکومت کی ضرورت ہے۔ جب ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ہماری اکثریت ہے تو ہم اسے ثابت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہم کل ہی اکثریت ثابت کر سکتے ہیں۔

سبل نے مزید کہا ، ’’ہم نے کرناٹک میں بھی یہ ثابت کیا ہے۔ اگر ان (بی جے پی) کے پاس اکثریت ہے تو انہیں اپنی اکثریت ثابت کرنی چاہئے۔‘‘


سپریم کورٹ کے سامنے ابھیشیک منو سنگھوی کے پیش کئے دلائل

ابھیشیک منو سنگھوی نے کانگریس کا موقف پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ مہاراشٹرا میں جو کچھ ہوا ہے وہ شکوک و شبہات کی زد میں ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گورنر کا ہر اقدام اس طرف اشارہ کر رہا ہے کہ انہیں ایسا کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔

کانگریس، این سی پی اور شیوسینا نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ فڑنویس کی جانب سے گورنر کو جو بھی دستاویزات پیش کئے گئے ہیں انہیں طلب کیا جائے اور بی جے پی سے جلد اسمبلی میں پروٹیم اسپیکر مقرر کرتے ہوئے اپنی اکثریت ثابت کرنے کو کہا جائے۔ علاوہ ازیں، یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ اکثریت صوتی ووٹوں سے ثابت کی جائے اور سارے عمل کی ویڈیو گرافی بھی کی کروائی جائے۔

شیو سینا، این سی پی اور کانگریس کی عرضی پر سماعت شروع

مہاراشٹر میں فڑنویس کی قیادت والی حکومت بنانے پر شیو سینا، این سی پی اور کانگریس کی گورنر کے حکم کے خلاف دائر عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہو گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر ترین سینئر جج این وی رمن کی سربراہی والی تین رکنی خصوصی بینچ اس معاملہ کی سماعت کر رہی ہے۔

درخواست گزاروں کا دعوی ہے کہ شیوسینا کے رہنما ادھو ٹھاکرے کی زیرقیادت اتحاد ، مہاوکاس آگاڑی کو 144 سے زیادہ ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے ، جبکہ فڑنویس حکومت اکثریت سے بہت پیچھے ہے۔

فڑنویس کو جمعہ کی صبح وزیر اعلی کا حلف دلائے جانے کے بعد شیوسینا ، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور کانگریس کی تینوں نے مشترکہ طور پر گذشتہ شام دیر سے یہ عرضی داخل کی ہے اور مرکزی حکومت ، مہاراشٹر حکومت ، فڑنویس اور این سی پی کے رہنما اجیت پوار کو مدعا علیہ بنایا ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے معاملے کی جلد سماعت کے لئے درخواست کی۔

فڑنویس حکومت کا کیا ہوگا؟ سپریم کورٹ کرے گا فیصلہ

مہاراشٹر معاملہ پر سپریم کورٹ میں سماعت کچھ ہی دری میں شروع ہونے جا رہی ہے اور دونوں اطراف کے لوگ عدالت اعظمیٰ میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ مہاراشٹر کانگریس کے رہنما پرتھویراج چوان ، رندیپ سورجے والا ، ابھیشیک منو سنگھوی سپریم کورٹ پہنچ چکے ہیں۔ جب نامہ نگاروں نے ابھیشیک منو سنگھوی سے سوال کرنا چاہا تو وہ کوئی جواب دیئے بغیر مسکرا کر آگے بڑھ گئے۔


یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading