نئی دہلی، 17 ستمبر (یو این آئی) قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی دوسری سب سے پرانی اتحادی پارٹی شیرومنی اکالی دل (بادل) کسانوں کے معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیرقیادت مرکزی حکومت سے باہر آگیا۔لوک سبھا میں کسانوں کی پیداوار تجارت اور کمرشل (فروغ اور آسانیاں) بل، 2020 اور کسانوں (امپاورمنٹ اور پروٹیکشن) کی قیمتوں کی یقین دہانی اور زرعی خدمات سے متعلق معاہدہ بل پر بیک وقت بحث میں حصہ لینے کے دوران شرومنی اکالی دل (بادل) کے لیڈرسکبھیر سنگھ بادل نے بلوں کو کسان مخالف بتاتے ہوئے حکومت چھوڑنے کا اعلان کردیا۔
بعد میں مسٹر سکھبیر بادل کی اہلیہ اور فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز کی مرکزی وزیر ہرسمرت کور بادل نے ٹویٹ کیا کہ انہوں نے اپنا استعفی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیج دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسان مخالف بلوں کی مخالفت کرتے ہوئے مرکزی کابینہ سے استعفی دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ وہ کسانوں کے ساتھ ان کی بیٹی اور بہن کے طور پر کھڑی ہیں۔
دونوں بلوں پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے، مسٹر سکھبیر سنگھ بادل نے کہا کہ شرومنی اکالی دل کسانوں کی پارٹی ہے اور وہ زراعت سے متعلق ان بلوں کی مخالفت کرتی ہے۔
انہوں نے کانگریس کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شرومنی اکالی دل نے کبھی یو ٹرن نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم قومی جمہوری اتحاد کے شراکت دار ہیں۔ ہم نے کسانوں کا احساس حکومت کو بتایا۔ ہم نے ہر پلیٹ فارم پر اس موضوع کو اٹھایا اور کسانوں کی پریشانیوں کو دور کرنے کی کوشش کی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔مسٹر بادل نے کہا کہ پنجاب کے کسانوں نے ملک کو خوراک کے معاملے میں خود انحصار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ پنجاب آنے والی حکومتوں نے زرعی انفراسٹرکچر کی تیاری کے لئے سخت محنت کی، لیکن یہ آرڈیننس ان کی 50 سالہ محنت کو برباد کر دے گا۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کی جماعت ہونے کے ناطے وہ کسی ایسی چیز کی تائید نہیں کرسکتے جو ملک خاص طور پر پنجاب کے اناج فراہم کرنے والوں کے خلاف ہو۔ لہذا کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے ان کی پارٹی کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر این ڈی اے کے موجودہ سب سے پرانی اتحادی کا حکومت سے نکل جانا بی جے پی کے لئے ایک تلخ تجربہ رہا۔ اس سے قبل پچھلے سال این ڈی اے کی سب سے پرانی اتحادی شیوسینا نے مودی حکومت اور این ڈی اے دونوں کے ساتھ تعلقات توڑلئے تھے۔