نئی دہلی (ایجنسی): ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے عمل کو لے کر ملک میں سیاسی اور انتظامی سطح پر بحث جاری ہے۔ اسی دوران الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایس آئی آر کے فیصلے سے متعلق پیدا ہونے والے سوالات پر اہم وضاحت پیش کی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر سمیت تمام اہم فیصلے کسی ایک افسر یا ایک انتخابی کمشنر کی مرضی سے نہیں بلکہ کمیشن کے ارکان کی منظوری سے لیے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دونوں الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی منظوری سے ایس آئی آر سے متعلق فیصلے کیے گئے ہیں۔ کمیشن نے ان اطلاعات کو مسترد کیا ہے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایس آئی آر کے معاملے پر کمیشن کے اندر اختلافات موجود ہیں۔
14 مرتبہ اعتراضات کا دعویٰ
دوسری جانب انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ 10 ماہ کے دوران الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے کمیشن کے بعض فیصلوں پر کم از کم 14 مرتبہ باضابطہ اعتراضات درج کیے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعتراضات ووٹر فہرستوں سے نام حذف کرنے، نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹر فہرستوں کے ڈیٹا تک رسائی اور انتخابی نظام میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق امور پر تھے۔
فارم 6 میں تبدیلی پر بھی اعتراض
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 میں ایس آئی آر سے متعلق بعض سوالات شامل کیے جانے پر بھی اعتراض کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ووٹر فہرستوں کے ڈیٹا تک رسائی کو زیادہ مرکزی نظام کے تحت لانے کے معاملے پر بھی دونوں انتخابی کمشنروں کی جانب سے تشویش ظاہر کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔
الیکشن کمیشن کی وضاحت
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق زیادہ سے زیادہ فیصلے باہمی اتفاق رائے سے لینے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم اگر کسی معاملے پر اختلاف ہو تو اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ لینے کی قانونی گنجائش موجود ہے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ایس آئی آر سے متعلق فیصلہ تینوں انتخابی کمشنروں کی منظوری سے لیا گیا ہے۔
ایس آئی آر کا مقصد کیا ہے؟
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کا بنیادی مقصد ووٹر فہرستوں کو درست اور شفاف بنانا بتایا گیا ہے، تاکہ اہل شہریوں کے نام فہرست سے خارج نہ ہوں اور نااہل افراد کے نام شامل نہ کیے جائیں۔ الیکشن کمیشن نے مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کا عمل شروع کیا ہے۔
ایس آئی آر کے معاملے پر ایک طرف کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات سے متعلق رپورٹیں سامنے آ رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے تمام اہم فیصلے اتفاق رائے سے کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ایس آئی آر کے عمل اور کمیشن کی اندرونی فیصلہ سازی پر ملک بھر میں بحث مزید تیز ہوگئی ہے۔اگر آپ چاہیں تو میں اسی خبر کو ورق تازہ کے لیے مزید تفصیلی اور زیادہ مؤثر اخباری انداز میں بھی ترتیب دے سکتا ہوں۔